உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پڑھائی کرتے کرتے سیکس ورکر بن گئی ، اب دلدل سے باہر نکلی تو ہوگئی ایسی حالت، جان کر کھڑے ہوجائیں گے رونگٹے

    پڑھائی کرتے کرتے سیکس ورکر بن گئی ، اب دلدل سے باہر نکلی تو ہوگئی ایسی حالت ۔ (Image- Jessica Hyer) Griffin

    سپورٹ فار اسٹوڈینٹ سیکس ورکر (Founder of Support for Student Sex Workers) کی فاونڈر اور پانچ سال تک ایک کل وقتی سیکس ورکر رہ چکی جیسیکا ہائر گریفن (Jessica Hyer Griffin) نے اپنی کہانی بتائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیسے وہ اس دلدل (Sex workers) سے نکلنا چاہتی تھی ، لیکن کوئی ان کی مدد کیلئے آگے نہیں آیا ۔

    • Share this:
      ہمارے سماج کا ایک ایسا طبقہ ، جس کے بارے میں جانتے سب ہیں ، لیکن کوئی ان کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ۔ جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی لڑکیاں یا خواتین اس دلدل تک کیسے پہنچتی ہیں ، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ جیسے بھوک ، غربت یا پھر انسانی اسمگلنگ ۔ ایک مرتبہ کوئی اس جہنم میں پہنچ جائے تو وہاں سے لوٹ کر آنا تقریبا ناممکن ہی ہے ۔ اس سیاہ دنیا سے نکلنے کی کوشش کرنے والی ایک لڑکی کی کہانی آپ کے رونگٹے کھڑے کردی گی ۔

      دراصل ایک پرائیویٹ کیم ماڈل اور پانچ سالوں تک ایک کل وقتی سیکس ورکر رہ چکی جیسیکا ہائر گریفن نے میٹرو کو اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں جسم فروشی کے دھندہ میں گریجویشن کی تعلیم کے وقت دھکیل دیا گیا تھا اور تعلیم مکمل ہونے کے دو سال بعد تک وہ یہ کام کرتی رہیں ۔ انہوں نے اس بات کی جانکاری دی کہ جب انہوں نے یہ کام شروع کیا تھا تو انہیں یہ پسند آنے لگا تھا ، لیکن جب انہوں نے اس کو چھوڑنا چاہا تو انہیں غربت جھیلنی پڑی ، جس کی وجہ سے انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بری طرح پھنس چکی ہیں ۔

      انہوں نے بتایا کہ وہ لوگوں سے یہ کہتی تھی کہ وہ پیسے کیلئے نان سیکسوئل ڈیٹ پر گئی تھیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ جھوٹ وہ اس لئے بولتی تھیں تاکہ لوگ انہیں جج نہ کریں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے سچ کہا تو انہیں محسوس ہوا کہ لوگ ان سے دور ہورہے تھے ۔ انہوں نے جانکاری دی کہ جب میں نے ایک ریپ کاونسلر کو بتایا کہ میں قرض میں ڈوب رہی ہوں اور میں باہر نہیں نکل پا رہی ہوں اور انہوں نے اپنی سچائی بتائی تو انہیں خود کو رسک میں ڈالنے کیلئے ریپ ریکوری سینٹر سے چھٹی دیدی گئی ۔

      جیسیکا نے کہا کہ ایسے وقت پر لگتا ہے کہ کوئی راستہ نہیں ہے اور کہیں نہیں جاسکتے ہیں ، تو سیکس ورک کی دنیا میں اکیلاپن محسوس ہونے لگتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریکوری سینٹر سے ڈسچارج ہونے کے بعد مجھے شرمندگی محسوس ہوئی ۔ میں خود کو تنہا اور بے یارومددگار محسوس کررہی تھی ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ حالانکہ انہوں نے یہ بتایا کہ میں جب اچھا کررہی ہوں اور میں جو کچھ بھی کررہی ہوں ، اس کے بارے میں بغیر کسی شرم کے اتنی کھل کر بات کرنے کے قابل ہوں کیونکہ مجھے سننے والے لوگ ملے ۔

      جیسیکا نے کہا کہ ان کی ملاقات ایک نرس سے ہوئی ، جس کو یقین تھا کہ وہ بہتر ہوجائے گی ۔ اسی کے ساتھ وہ ایک تھیریپسٹ سے بھی ملی ، جس نے انہیں سکھایا کہ انہیں شرم محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ وہ ایک سائیکاٹسٹ سے ملی ، جس نے اس کی پی ٹی ایس ڈی کے علاج میں مدد کی ۔ جانکاری کے مطابق وہ سبھی سیکس ورکرس کی مدد کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے تجربہ سے بہت کچھ سیکھا ہے ، اس لئے وہ دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: