پاکستان نےدنیا کے سامنےکیا حقائق کا اعتراف، اقوام متحدہ میں بتایا کشمیرکوہندوستان کا صوبہ

اس طرح سے پاکستان نے کشمیرپراس سچائی کا اعتراف کرلیا ہے، جسے دنیا طویل عرصے سے جانتی اورمانتی آئی ہے۔

Sep 10, 2019 07:00 PM IST | Updated on: Sep 10, 2019 07:18 PM IST
پاکستان نےدنیا کے سامنےکیا حقائق کا اعتراف، اقوام متحدہ میں بتایا کشمیرکوہندوستان کا صوبہ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دنیا کے سامنے کیا حقائق کا اعتراف، کشمیرہندوستان کا صوبہ۔ فائل فوٹو

پاکستان کےوزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صحافیوں سےبات چیت کےدوران تسلیم کیا ہےکہ کشمیرہندوستان کا حصہ ہے۔ دراصل انہوں نےاپنے بیان میں کشمیرکوخطاب کرتےہوئے 'انڈین اسٹیٹ جموں وکشمیر' یعنی ہندوستانی ریاست جموں وکشمیرکہا۔ اس طرح سے پاکستان نےاس بات کوتسلیم کیا ہے، جسےدنیا طویل عرصے سے جانتی اورمانتی آئی ہے۔ تاہم پاکستان ایسا ماننےسےانکارکرتا رہا تھا۔

بعد میں ہوا غلطی کا احساس تولگانے لگے الزامات 

Loading...

پہلےتوپاکستانی وزیرخارجہ  شاہ محمود قریشی نے یہ بات کہہ دی، لیکن جب انہیں یہ احساس ہوا کہ انہوں نے سچائی کا اعتراف کرلیا ہےتووہ ہندوستان پرالزامات عائد کرنےلگے۔ انہوں نےکہا کہ ہندوستان دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہےکہ کشمیرمیں حالات معمول پرآچکے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ دراصل جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 اورآرٹیکل 35 اے ہٹائےجانےکے بعد سے پاکستان بوکھلایا ہوا ہےاوروہ مختلف اسٹیج پرہندوستان کی شکایت کررہا ہے۔

سرحد پرموجودہ حالات سے چھیڑچھاڑکا لگایا الزام

پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ہندوستان سرحد کی موجودہ حالات کوبدلنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ہندوستان اس مسئلے پراپنے حالات کوپہلے ہی واضح کرچکا ہے۔ سرحد کےمسئلےپرہندوستانی وزیرخارجہ ایس جےشنکرنےاپنے چین کے سفرکے دوران کہا تھا کہ ہندوستان کی سرحد کی موجودہ حالات کوتبدیل کرنےکا کوئی ارادہ نہٰیں ہے۔

کیسے کام کرتی ہےکونسل؟

شاہ محمود قریشی نےاپنا مذکورہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایچ آرسی) میں صحافیوں سےبات چات کے دوران دیا۔ اس کی میٹنگ جنیوا میں چل رہی ہے۔ اس ادارے میں وہ سبھی ملک حصہ لیتےہیں، جواقوام متحدہ کےرکن ہیں۔ حالانکہ اس کونسل میں فیصلہ لینے کا اختیارکچھ ہی ممالک کے پاس ہے۔ فیصلہ لینےکے نظام میں ایک مدت کارمیں 47 ممالک کےنمائندے شامل ہوتے ہیں۔ ایک ملک مسلسل دومدت کارمیں رکن ممالک میں شامل نہیں ہوسکتا۔ ان نمائندوں کی مدت کاردو سال کی ہوتی ہے۔

Loading...