ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان: ایک نیوڈ ویڈیو وائرل کرکے رچی گئی "عورت مارچ" کو بدنام کرنے کی سازش

ٹویٹر پر شیئر کئے گئے اس ویڈیو کو 'پاکستان آرمی زندہ باد @99PakistanArmy' نام کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے05 مارچ، 2020 کو شیئر کیا گیا اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ'میراجسم میری مرضی کا نتیجہ اسلام آباد سے نکل آیا ہے۔

  • Share this:
پاکستان: ایک نیوڈ ویڈیو وائرل کرکے رچی گئی
بغیر جانچے ہی اس ویڈیو کو ہزاروں لوگوں نے لائک اور ری ٹویٹ بھی کردیا ہے۔

اسلام آباد: پاکستان میں حال ہی میں ایک تین سال پرانا نیوڈ ویڈیو وائرل ہورہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ویڈیو 8 مارچ کو ہونے والے "عورت مارچ"کو بدنام کرنے کیلئے شیئر کیا گیا ہے۔ ٹویٹر پر شیئر کئے گئے اس ویڈیو کو 'پاکستان آرمی زندہ باد @99PakistanArmy'  نام کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے05 مارچ، 2020 کو شیئر کیا گیا اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ'میراجسم میری مرضی کا نتیجہ اسلام آباد سے نکل آیا ہے۔

بغیر جانچے ہی اس ویڈیو کو ہزاروں لوگوں نے لائک اور ری ٹویٹ بھی کردیا ہے۔ شام 6 بجے تک 12 ہزار سے زیادہ لوگ اس ویڈیو کو دیکھ چکے تھے۔ وہیں پاکستان کے "سماں ڈیجیٹل"  نے  جب  ویڈیو  کی  جانچ  کی  تو  معلوم  ہوا  کہ  یہ  ویڈیو  اس سے پہلے بھی شیئر کیا جاتا رہا ہے۔ اسے پہلی مرتبہ اکتوبر 2016 میں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تھا۔

تین سال پرانا ہے ویڈیو

یہ ویڈیو کئی سوشل سائٹ پر موجود ہے۔ حالانکہ کئی جگہ سے اسے ہٹا بھی دیا گیا ہے۔ ایف ایچ ایم پاکستان نے 25 اکتوبر، 2016 کو اس ویڈیو کے بارے میں ایک اسٹوری بھی شائع کی تھی۔ اسلام آباد کے اس وقت آئی جی طارق مسعود یاسین نے اس ویڈیو سے متعلق ایک بیان بھی جاری کیا تھا جو 20 اکتوبر کو 'ڈیلی پاکستان' کی ویب سائٹ پر دکھایا گیا تھا۔

تب اس وقت کے آئی جی طارق مسعود یاسین نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ "ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون فرانس کا ویزا لینے کیلئے 13 اکتوبر کو اسلام آباد آئی اور اس نے فرانس کے سفارت خانے میں ویزا کیلئے درخواست دی'۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خاتون ذہنی طور سے ٹھیک نہیں تھی اس لئے اس کو دورہ پڑ گیا اور اس نے سڑک پر کپڑے اتار کر ہنگامہ کرنا شروع کردیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون سڑک پر چلنے والی ہر گاڑی اور لوگوں کو مارنے کی کوشش کررہی ہے۔

آئی جی نے اس وقت سوشل میڈیا صارفین اور دیگر لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس ویڈیو کو ہر جگہ سے ڈیلیٹ کردیں ، کیوں کہ یہ ذہنی مریض کسی بھی شخص اور ہمارے یا کسی بھی خواتین کے ساتھ ہوسکتا ہے۔
First published: Mar 06, 2020 05:13 PM IST