உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گردانہ حملے پر بھڑکیں شیخ حسینہ،کہا، وہ کس طرح کے مسلمان ہیں؟

    ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ہائی سیکورٹی والے سفارتی علاقے کے ایک مقبول ریستوران میں یرغمالیوں کا بحران ختم ہو گیا ہے۔

    ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ہائی سیکورٹی والے سفارتی علاقے کے ایک مقبول ریستوران میں یرغمالیوں کا بحران ختم ہو گیا ہے۔

    ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ہائی سیکورٹی والے سفارتی علاقے کے ایک مقبول ریستوران میں یرغمالیوں کا بحران ختم ہو گیا ہے۔

    • Share this:
      ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ہائی سیکورٹی والے سفارتی علاقے کے ایک مقبول ریستوران میں یرغمالیوں کا بحران ختم ہو گیا ہے۔ بھاری ہتھیاروں سے لیس بنگلہ دیشی کمانڈوز نے اس ریستوران پر دھاوا بولا اور اسلامی اسٹیٹ کے دہشت گردوں کو مار گرایا۔ ان دہشت گردوں نے ریستوران میں غیر ملکی شہریوں سمیت بہت سے لوگوں کو 12 گھنٹے سے زیادہ وقت سے یرغمال بنا رکھا تھا۔

      وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے آپریشن کو 'کامیاب طور پر' پورا کرتے ہوئے 13 یرغمالیوں کو آزاد کرا لیا۔ اس ہسپانوی ریستوران میں چھ دہشت گرد مارے گئے اور ایک دہشت گرد کو زندہ پکڑ لیا گیا۔

      حسینہ نے کمانڈو مہم مکمل ہونے کے ایک گھنٹے بعد ایک پروگرام میں کہا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ ہم دہشت گردوں کو ختم کرنے اور یرغمالیوں کو بچانے میں كامياب رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 13 یرغمالیوں کو بچا لیا جن میں کچھ افراد زخمی ہیں، لیکن موقع سے کوئی دہشت گرد فرار نہیں ہو پایا۔ چھ دہشت گردوں کو موقع پر ہی مار دیا گیا اور ایک کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ حسینہ نے اس کیس میں مارے گئے لوگوں کی کوئی واضح تعداد نہیں بتائی۔

      بنگلہ دیشی وزیر اعظم نے اس کی تفصیل نہیں دی کہ ریستوران کے اندر کل کتنے لوگ یرغمال بنائے گئے تھے۔ پہلے کی خبروں میں کہا گیا تھا کہ 30 سے ​​زیادہ لوگوں کو یرغمال بنایا گیا ہے جن میں 20 غیر ملکی شہری ہیں۔ ریستوران سے بچائے گئے لوگوں میں ہندوستانی، سری لنکا اور جاپانی شہری ہیں۔

      وزیر اعظم شیخ حسینہ نے حملے پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ حسینہ نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا صفایا کرنے کے لئے سب کچھ کرے گی۔

      دہشت گردوں کی مسلم شناخت کو لے کر سوال کرتے ہوئے حسینہ نے کہا کہ وہ کس طرح کے مسلمان ہیں؟ انہوں نے رمضان المبارک کے اصل پیغام کی خلاف ورزی کی اور لوگوں کا قتل کیا ہے۔ جس طرح سے انہوں نے لوگوں کا قتل کیا وہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ دہشت گردی ہی ان کا مذہب ہے۔
      First published: