உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شنزوآبے کے قاتل نے خود بنائی تھی بندوق،ماں کے دیوالیہ ہونے سے تھا ناراض-رپورٹ

    Youtube Video

    نارا پولیس نے جاپانی میڈیا کی طرف سے یاماگامی کے مقاصد یا تیاریوں کے بارے میں بتائی گئی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیا نے اس مذہبی گروپ کا نام نہیں لیا جس نے شنزو ایبے کو قتل کرنے والے ملزم کو ناراض کیا۔

    • Share this:
      لندن:شنزو آبے کو قتل کرنے والے شخص کا ماننا ہے کہ جاپان کے سابق وزیراعظم ایک مذہبی گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں ملزم نے اپنی والدہ کی مالی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس نے وہ بندوق گھر پر بنائی تھی جس سے اس نے شنزو ایبے پر حملہ کیا۔ پولیس نے یہ اطلاع مقامی میڈیا کو دی۔ 41 سالہ ٹیٹسویا یاماگامی کو پولیس نے شنزو آبے کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

      جاپانی ٹیلی ویژن پر بار بار دکھائے گئے ویڈیو میں ایک شخص پیچھے سے چپ چاپ جاپان کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم کے پاس آتا ہے اور ان کے اوپر فائرنگ کرتا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو چوراہے پر ایک حاشیے پر کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ آبے کے ٹھیک پیچھے سڑک پر آتا ہے اور کالے ٹیپ میں لپیٹی گئی 40 سینٹی میٹر لمبے (16انچ) ہتھیار سے 2 شاٹ فائر کرتا ہے۔ پہلا شاٹ مس ہوتا ہے، لیکن دوسرا آبے کو لگ جاتا ہے۔ پھر سیکورٹی اہلکار ملزم کو دبوچ لیتے ہیں۔

      یاماگامی کے پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ بات نہیں کرتا تھا
      ٹیٹسویا یاماگامی کے پڑوسیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ گھر میں اکیلے رہتا تھا اور بات کرنے پر کوئی جواب نہیں دیتا تھا۔ کیودو نیوز ایجنسی نے تفتیشی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ملزم کا خیال ہے کہ شنزو ایبے نے ایک مذہبی گروہ کو فروغ دیا جسے اس کی والدہ نے عطیہ دیا تھا اور پھر وہ دیوالیہ ہوگئی تھیں۔ کیودو اور دیگر مقامی میڈیا کے مطابق آبے کو قتل کرنے والے ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ ’میری والدہ ایک مذہبی گروپ میں شامل ہوئی تھیں اور میں نے اس کی مخالفت کی تھی۔‘

      یہ بھی پڑھیں:

      زندگی کی جنگ ہار گئے Shinzo Abe، گولی لگنے سے ہوئی موت

      یہ بھی پڑھیں:
      میرے پیارے دوست شنزو آبے پر حملے سے غمزدہ ہوں، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں: پی ایم مودی

      نارا پولیس نے جاپانی میڈیا کی طرف سے یاماگامی کے مقاصد یا تیاریوں کے بارے میں بتائی گئی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیا نے اس مذہبی گروپ کا نام نہیں لیا جس نے شنزو ایبے کو قتل کرنے والے ملزم کو ناراض کیا۔ جاپانی میڈیا کے مطابق، تیتسویا یاماگامی نے آن لائن خریدے گئے پرزوں میں سے بندوقوں میں ہیر پھیر کی، حملے کی سازش رچنے میں مہینوں گزارے، یہاں تک کہ اس نے شنزو آبے کی انتخابی تقریبات میں بھی شرکت کی۔ اس نے قتل سے ایک دن قبل، نارا سٹی سے تقریباً 200 کلومیٹر (میل) دور آبے کی انتخابی ریلی میں بھی شرکت کی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: