ہوم » نیوز » عالمی منظر

پارلیمنٹ میں فون پر پورن دیکھتے ہوئے پکڑے گئے ممبر پارلیمنٹ ، بعد میں دیا یہ عجیب بیان

تھائی لینڈ میں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر موبائل پر قابل اعتراض تصویر دیکھتے ہوئے ایک رکن پارلیمنٹ کیمرے میں قید ہوگئے ۔ سوال پوچھے جانے پر رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ اس لئے دھیان سے تصویروں کو دیکھ رہے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ وہ لڑکی گینگسٹرس کے قبضے میں ہوسکتی ہے ۔

  • Share this:
پارلیمنٹ میں فون پر پورن دیکھتے ہوئے پکڑے گئے ممبر پارلیمنٹ ، بعد میں دیا یہ عجیب بیان
پارلیمنٹ میں فون پر پورن دیکھتے ہوئے پکڑے گئے ممبر پارلیمنٹ ، بعد میں دیا یہ عجیب بیان ۔ علامتی تصویر ۔

بینکاک : عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ ان کی آواز کو سب سے طاقتور پلیٹ فارم تک پہنچائیں گے ۔ لیکن کئی مرتبہ کچھ اراکین پارلیمنٹ ایسا کچھ کرجاتے ہیں ، جس سے انہیں بعد میں شرمندہ ہونا پڑتا ہے ۔ تھائی لینڈ کی پارلیمنٹ میں بھی ایسا ہی کچھ دیکھنے کو ملا ہے ۔ یہاں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر موبائل پر قابل اعتراض تصویریں دیکھتے ہوئے ایک ممبر پارلیمنٹ کیمرے میں قید ہوگئے ۔ بعد میں اس کو لے کر سوال پوچھے جانے پر انہوں نے اس کا اعتراف تو کیا ، لیکن کافی عجیب و غریب بیان دیا ۔


جمعرات کو تھائی لینڈ کی پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث ہونے والی تھی ۔ سبھی اراکین بجٹ کے دستاویز دیکھنے میں مصروف تھے ۔ اسی دوران ایک ممبر پارلیمنٹ رونناتھیپ فون پر کچھ اور ہی کرنے میں مصروف تھے ۔ پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں نے ان کی تصویریں لے لیں اور زوم کرکے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ خواتین کی قابل اعتراض تصویریں دیکھ رہے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے اپنے چہرے سے ماسک بھی ہٹالیا تھا ۔


انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ موبائل میں قابل اعتراض تصویریں دیکھ رہے تھے ، لیکن انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں کسی نے پیسے اور مدد کی مانگ کرتے ہوئے یہ تصویریں بھیجی تھیں ۔ علامتی تصویر ۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ موبائل میں قابل اعتراض تصویریں دیکھ رہے تھے ، لیکن انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں کسی نے پیسے اور مدد کی مانگ کرتے ہوئے یہ تصویریں بھیجی تھیں ۔ علامتی تصویر ۔


وہ تین تصویروں کو کافی دیر تک دیکھتے رہتے ہیں ، جن میں سے ایک تصویر میں خاتون ٹاپ لیس ہے تو دوسری تصویر میں نیوڈ ہوکر بیڈ پر لیٹی ہے ۔ جب بعد میں صحافیوں نے ممبر پارلیمنٹ سے تصویروں کی بابت سوال کیا تو وہ شرمندہ ہوگئے ۔ حالانکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ موبائل میں قابل اعتراض تصویریں دیکھ رہے تھے ، لیکن انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں کسی نے پیسے اور مدد کی مانگ کرتے ہوئے یہ تصویریں بھیجی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تصویروں میں بیک گراونڈ کو دھیان سے دیکھ کر یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ کہیں لڑکی کسی خطرے میں تو نہیں ہے ۔ وہ لڑکی کے آس پاس کی چیزیں دیکھ رہے تھے ۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ اس لئے دھیان سے تصویروں کو دیکھ رہے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ وہ لڑکی گینگسٹرس کے قبضے میں ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ لڑکی پیسے مانگ رہی تھی ، اس لئے انہوں نے ان تصویروں کو موبائل سے ڈیلیٹ کردیا ۔ معاملہ میڈیا میں سرخیوں میں آنے کے بعد سرکار نے ان سے اس پر جواب مانگا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 18, 2020 11:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading