ہوم » نیوز » عالمی منظر

CPEC کے مستقبل کو لے کر چین اور پاکستان میں بڑھ رہی ہے بے چینی : رپورٹ

China–Pakistan Economic Corridor : ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کو لے کر ہوئی حالیہ میٹنگ میں چین کی طرف سے فنڈنگ کو لے کر پاکستان کو مایوسی ہاتھ لگی ہے ۔ پاکستان CPEC کے دوسرے مرحلہ میں کچھ اور پروجیکٹ کو بھی شامل کرنا چاہتا تھا ، لیکن چین کے افسران کی طرف سے کسی بھی طرح کی فنڈنگ کا وعدہ کرنے سے انکار کردیا گیا ہے ۔

  • Share this:
CPEC کے مستقبل کو لے کر چین اور پاکستان میں بڑھ رہی ہے بے چینی : رپورٹ
CPEC کے مستقبل کو لے کر چین اور پاکستان میں بڑھ رہی ہے بے چینی : رپورٹ

چین اور پاکستان اکنامک کوریڈور پروجیکٹ میں دھیمی رفتار کے درمیان دونوں ممالک میں بے چینی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کو لے کر ہوئی حالیہ میٹنگ میں چین کی طرف سے فنڈنگ کو لے کر پاکستان کو مایوسی ہاتھ لگی ہے ۔ ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ میں بین الاقوامی پبلیکیشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان CPEC کے دوسرے مرحلہ میں کچھ اور پروجیکٹ کو بھی شامل کرنا چاہتا تھا ، لیکن چین کے افسران کی طرف سے کسی بھی طرح کی فنڈنگ کا وعدہ کرنے سے انکار کردیا گیا ہے ۔


علاوہ ازیں پاکستان رعایتی شرح پر دیگر قرض بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ پاکستان چاہتا تھا کہ اس کو رعایتی شرح کے حساب سے ایک فیصد شرح سود پر قرض ملے ، لیکن چین کی طرف سے اس کیلئے بھی انکار کردیا گیا ۔ دراصل چین چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کو ریل پروجیکٹ کیلئے کمرشیل اور رعایتی دونوں کا مکسڈ لون دے اور اس کیلئے چین پاکستان سے کوئی گارنٹی بھی چاہتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ کو لے کر پاکستان اور چین کے درمیان بے چینی صاف ظاہر ہوئی ہے ۔ ممکنہ طور پر چین میں بھی پاکستان کو لے کر اعتماد میں کمی آئی ہے ۔


رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چین کے کئی ایسے پروجیکٹ ہیں جو ابھی لٹکے ہوئے ہیں ، ان پروجیکٹس کی قیمت تقریبا 1200 کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے ۔ کافی تشہیر کے باوجود بھی شاید ہی کوئی بڑا چینی سرمایہ کار ہے ، جو CPEC کے تحت بنے اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے ۔ اب پاکستان کے ذریعہ CPEC کو ہر پریشانی کا حل بتانے والے نیریٹو کی بری حالت ہورہی ہے ۔


پروجیکٹ کی رفتار دھیمی ہونے کے علاہ ایک دیگر پریشانی یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک کی ایجنسیوں کے درمیان اچھا تال میل نہیں ہے ۔ اب پاکستان میں یہ تصویر عام ہورہا ہے کہ ملک کو حقیقت میں CPEC سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ حال ہی میں پاکستان کی CPEC کو لے کر سینیٹ کی اسپیشل کمیٹی نے یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا کہ ملک کے پاس اتنے بڑے پروجیکٹ کو مینیج کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ کمیٹی نے رپورٹ میں کہا کہ ملک کی منصوبہ بندی کی وزارت کے پاس اس پروجیکٹ کو لے کر کوئی ویزن نہیں ہے ۔

بتادیں کہ ہندوستان اس پروجیکٹ کی مخالفت کرتا رہا ہے ، کیونکہ یہ پروجیکٹ پاک مقبوضہ کشمیر کے گلگت بلتستان سے ہوکر گزرے گا ۔ اس کے علاوہ اس پروجیکٹ میں پاکستان کا متنازع علاقہ بلوچستان بھی شامل ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 04, 2021 07:57 AM IST