உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شیر کو دیکھ کر سیاح نے کر ڈالی بڑی حماقت، کھڑکی کھول کر لینے لگا پنگے، شیر نے لگائی دھاڑ ہو گئی حالت خراب

    لوگوں نے کہا پاگل یہ شخص ہے۔

    لوگوں نے کہا پاگل یہ شخص ہے۔

    اس کا کلپ Maasai Sightings نامی یوٹیوب چینل (YouTube Channel) نے شیئر کیا ہے۔ ویڈیو افریقہ کے سیرینگیٹی نیشنل پارک کی ہے۔ یہاں بس کے ذریعے چڑیا گھر میں گھومنے والا ایک سیاح اچانک وہاں کھڑے شیر کے ساتھ پنگا لینے لگتا ہے۔

    • Share this:
      ایک آدمی ہے جو موت سے بچنے کی ہزار کوششیں کر جاتا ہے اور وہیں ایک شخص ایسا بھی ہے جو خود موت کے منہ میں جاکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایک ایسے ہی شخص کا کلپ انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہا ہے جو خود ہی موت کو چیلنج کرنے پہنچ گیا۔ جی ہاں یہ شخص چڑیا گھر میں ٹلتے ہوئے سیدھا جنگل کے راجا یعنی شیر سے ہی پنگا لینے لگا پھر جو ہوا وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔

      اس کا کلپ Maasai Sightings نامی یوٹیوب چینل (YouTube Channel) نے شیئر کیا ہے۔ ویڈیو افریقہ کے سیرینگیٹی نیشنل پارک کی ہے۔ یہاں بس کے ذریعے چڑیا گھر میں گھومنے والا ایک سیاح اچانک وہاں کھڑے شیر کے ساتھ پنگا لینے لگتا ہے۔ وہ بس کی کھڑکی کھول کر شیر کو چھونے کی کوشش کر رہا ہے، پھر اچانک شیر پلت جاتا ہے۔ لوگ سیاح کی بے وقوفی پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔



      شیر کو دیکھ کر کی سب سے بڑی حماقت
      ویڈیو کے شر میں ایک شخص چڑیا گھر جانے والی بس میں گھومتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جیسے ہی سیاح بس کے باہر شیر کو دیکھتا ہے جوش میں آکر ہاتھ نکال کر اسے چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کیمرہ ہے۔ شاید وہ سامنے سے تصویر لینے کے لیے شیر کو چھو رہا ہے۔ حالانکہ یوں تو شیر نے بھی ایک بار اس کی حماقت کو برداشت کر لیتا ہے لیکن جیسے ہی سیاح اسے مزید پریشان کرتا ہے تو شیر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ سیاح کو دیکھ کر شیر زور زور سے دھاڑتا ہے جس کی وجہ سے خوف کے مارے اس کی حالت خراب جاتی ہے۔
      لوگوں نے کہا پاگل یہ شخص ہے۔
      شیر کو ھاڑتا دیکھ کر اس شخص کی حالت اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ کھڑکی بند کرنے سے بھی ڈرتا ہے۔ یہ نظارہ بہت خوفناک ہے۔ اگر شیر نے کھڑکی سے حملہ کیا ہوتا تو اس شخص کے علاوہ بس میں موجود دیگر لوگوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ اس ویڈیو کو اب تک تقریباً 6 لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے۔ ویڈیو کو دیکھ کر لوگ مسلسل تبصرے کر رہے ہیں اور اس سیاح کی حماقت پر بھڑک رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: