உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Israel attacks Gaza: غزہ پر لگاتار اسرائیلی حملے! چھ فلسطینی بچے سمیت 24 افراد ہلاک

    غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ دو دن کی لڑائی کے دوران کم از کم 203 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ دو دن کی لڑائی کے دوران کم از کم 203 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 73 سالہ ام ولید بھی شامل تھی جو اپنے بیٹے کی شادی کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ بیت حنون پناہ گزین کیمپ میں ایک کار پر حملے میں ہلاک ہو گئی۔

    • Share this:
      اسرائیلی جیٹ طیاروں نے دوسرے روز بھی غزہ پٹی (Gaza Strip) پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 6 فلسطینی بچوں سمیت کم از کم 24 افراد ہلاک ہوگئے۔ فلسطینی علاقوں پر حکومت کرنے والے گروپ حماس (Hamas) نے کہا کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں اور اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

      تاہم اسرائیلی فوج (Israeli military) نے اس کے ذمہ دار ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ فلسطینی مسلح گروپ اسلامی جہاد کی طرف سے داغے گئے ایک ناکام راکٹ کی وجہ سے ہوا۔ غزہ میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ دو دن کی لڑائی کے دوران کم از کم 203 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

      ایک سال سے زیادہ عرصے سے مسلسل جھڑپوں کی وجہ سے غزہ کے ارد گرد پرسکون ماحول ختم ہوگیا ہے۔ یہ حملے جمعہ کو اسرائیل کی جانب سے اسلامی جہاد کے ایک سینئر کمانڈر کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ شروع ہوا۔ اس کے بعد اسرائیلی میزائلوں نے گھروں، اپارٹمنٹس کی عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے اور ایک پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ فوج نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جہاد کے خلاف اس کی مہم ایک ہفتے تک چل سکتی ہے۔


      اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 73 سالہ ام ولید بھی شامل تھی جو اپنے بیٹے کی شادی کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ بیت حنون پناہ گزین کیمپ میں ایک کار پر حملے میں ہلاک ہو گئی۔ فلسطینی مجاہدین نے اسرائیلی حملوں کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر 400 سے زائد راکٹ داغے تاہم ان میں سے بیشتر کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Covid-19: کورونا نے پھر بڑھائی تشویش، کیا آنے والی ہے نئی لہر؟ ماہرین نے کہی یہ بات

      اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق ابھی تک شدید جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تقریباً 2.3 ملین فلسطینی تنگ ساحلی غزہ پٹی میں کشمکش کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اسرائیل اور مصر نے حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت پر سختی سے پابندی لگا رکھی ہے اور بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:

      Oil Prices: صارفین کیلئے خوشخبری! خوردنی تیل کی قیمتوں میں 10 سے 12 روپے تک کمی کا امکان! کیا ہے وجہ؟

      اسرائیل نے جمعہ کو اپنے حملے شروع کرنے سے کچھ دیر پہلے غزہ میں ایندھن کی منتقلی کو روک دیا، اس علاقے کے واحد پاور پلانٹ کو تباہ کر دیا اور بجلی کو روزانہ تقریباً چار گھنٹے تک کم کر دیا اور صحت کے حکام کی جانب سے انتباہات جاری کیے گئے کہ چند دنوں میں ہسپتال شدید متاثر ہوں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: