உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Earthquake in Afghanistan: افغانستان میں 6.1 کی شدت سے آیا زلزلہ، 255 سے زائد افراد ہلاک

    Earthquake in Afghanistan: افغانستان میں زلزلے سے 255 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور ملائیشیا میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    • Share this:
      Earthquake in Afghanistan: ہندستان کے پڑوسی ممالک افغانستان Afghanistan اور پاکستان PAKISTAN  میں بدھ کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں زلزلے سے 255 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور ملائیشیا میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

      ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، 6.1 شدت کا زلزلہ جنوبی افغانستان میں آیا، جس میں کم از کم 255 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز دارالحکومت کابل کے جنوب میں خوست شہر سے تقریباً 44 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔
      Haunted Places:یہ ہیں دنیا کی 10سب سے زیادہ بھوتیاجگہیں، دن میں بھی جانے سے کانپتے ہیں لوگ


      250 افراد زخمی
      طالبان انتظامیہ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ محمد نسیم حقانی نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتوں کی تصدیق پڑوسی صوبے پکتیکا میں ہوئی ہے جہاں 100 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔

      پاکستان لوٹنے پر نواز شریف ہو سکتی ہے جیل، PAKISTAN کے قانونی وزیر کا بیان

      Pakistan news: عمران خان۔شہباز شریف سے زیادہ امیر ہیں ان کی بیویاں، یہاں جانئے تفصیل

      پاکستان PAKISTAN  کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
      پاکستان میں بھی 6.1 شدت کا زلزلہ آیا۔ فی الحال جانی و مالی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ جیو نیوز کے مطابق بدھ کو علی الصبح پاکستان کے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے کچھ حصوں میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا۔ اسلام آباد، ملتان، بھاکر، پھالیہ، پشاور، مالاکنڈ، سوات، میانوالی، پاکپتن اور بونیر سمیت کئی مقامات پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز افغانستان میں خوست کے جنوب مغرب میں تھا۔

      ملیشیا میں  بھی ہل گئی زمین
      اسی دوران نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق ملیشیا کے کچھ حصوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ بھی آیا۔ زلزلے کا مرکز دارالحکومت کوالالمپور سے 561 کلومیٹر مغرب میں تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: