உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عیدالفطر کے بعد طالبان کے خلاف شروع ہوگی جنگ! افغان کے سابق آرمی چیف نے للکارا

    عیدالفطر کے بعد طالبان کےخلاف شروع ہوگی جنگ!

    عیدالفطر کے بعد طالبان کےخلاف شروع ہوگی جنگ!

    افغانستان کے سابق آرمی چیف لیفتیننٹ جنرل سامی سعادت نے طالبان کو جنگ کے لئے للکارا ہے۔ سامی سعادت نے کہا ہے کہ وہ سابق فوجیوں اور لیڈران کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف ایک نیا دور شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ عیدالفطر کے بعد سے اس کی شروعات ہوسکتی ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan Crisis) میں طالبان (Taliban) نے گزشتہ سال اگست میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب اسے جنگ کا چیلنج ملا ہے۔ افغانستان کے سابق آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل سامی سعادت نے طالبان کو جنگ کے لئے للکارا ہے۔ سعادت نے کہا ہے کہ وہ سابق فوجیوں اور لیڈران کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف ایک نیا دور شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ عیدالفطر کے بعد سے اس کی شروعات ہو سکتی ہے۔

      بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں اس کی جانکاری دی۔ لیفٹیننٹ جنرل سامی سعادت نے طالبان کے حملے کے دوران جنوبی صوبہ ہیلمند میں افغانستان کے سرکاری سیکورٹی اہلکاروں کی کمان سنبھالی تھی۔ بی بی سی نے ان کے حوالے سے کہا کہ آٹھ ماہ کے طالبان اقتدار نے کئی افغانیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فوجی کارروائی ہی آگے بڑھنے کا واحد طریقہ ہے۔

      رپورٹ کے مطابق، سامی سعادت نے کہا کہ جنگ آئندہ ماہ عید الفطرکے بعد شروع ہو سکتی ہے۔ ان کا اسی وقت افغانستان لوٹنے کا منصوبہ ہے۔ سابق جنرل نے کہا کہ وہ اور دیگر لوگ افغانستان کو طالبان سے آزاد کرانا اور ایک جمہوری نظام پھر سے قائم کرنا یقینی بنانے کے لئے اپنی طاقتوں کے تحت سب کچھ کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’جب تک ہمیں اپنی آزادی نہیں ملتی، ہم لڑتے رہیں گے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      عیدالفطر کے بعد طالبان کےخلاف شروع ہوگی جنگ! افغان کے سابق آرمی چیف نے للکارا

      انہوں نے کہا، ’ہم نے افغانستان میں طالبان کے آٹھ مہینوں کے اقتدار میں جو کچھ بھی دیکھا ہے، وہ کچھ اور نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لئے مذہبی پابندیوں اور قرآن پاک کی غلط مثال، غلط تفسیر اور غلط استعمال ہے‘۔

      سامی سعادت افغانستان میں 36 سال کے سامی سعادت (Sami Sadat) افغان فوج کے سب سے اعلیٰ رینک والے آفیسر تھے۔ ان کی قیادت میں افغانی فوج، اس صوبائی راجدھانی میں طالبانیوں کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا تھا۔ باغی سوشل میڈیا پر ہتھیار ڈال رہے افغان فوجیوں کے فوٹو پوسٹ کر رہے ہیں، وہ مقامی لوگوں کے ساتھ اپنی سیلفی بھی پوسٹ کر رہے ہیں، دوسری طرف نوجوان جنرل سعادت بھی ٹوئٹر اور فیس بک کا طالبانیوں کے خلاف پی آر ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور جنگی علاقے میں بھی محاذ سنبھالے ہوئے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: