உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کو شامل کرانا چاہتا تھا پاکستان ، سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ رد

    طالبان کو شامل کرانا چاہتا تھا پاکستان ، سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ رد ۔ فائل فوٹو ۔

    طالبان کو شامل کرانا چاہتا تھا پاکستان ، سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ رد ۔ فائل فوٹو ۔

    SAARC Foreign Ministers meet : جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (SAARC) میں ہندوستان کے علاوہ افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، مالدیپ ، نیپال ، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم ( سارک) کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ رد کردی گئی ہے ۔ یہ میٹنگ 25 ستمبر کو نیویارک میں منعقد ہونے والی تھی ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان چاہتا تھا کہ طالبان کی سرکار بھی اس میٹنگ میں شامل ہو ، جس کیلئے سارک کے زیادہ تر ممالک تیار نہیں تھے ۔ ایسے میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے میٹنگ رد کردی گئی ہے ۔ سارک میں ہندوستان کے علاوہ افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، مالدیپ ، نیپال ، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں ۔

      بتادیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی حمایت یافتہ حقانی نیٹ ورک کے طالبان کی عبوری سرکار میں شامل ہونے کے بعد سے ہی پاکستان ، افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ آئی ایس آئی افغانستان کو بطور پاکستانی قبضہ کے خطہ کے طور پر چاہتا ہے ۔

      گزشتہ سال یہ میٹنگ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ سے ہوئی تھی ۔ اس سال کی میٹنگ کیلئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس پلیٹ فارم سے پاکستان کا نام لئے بغیر خطہ میں دہشت گردی کے معاملہ پر ہندوستان کی تشویش ظاہر کرنے والے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں حال ہی میں ہوئے طالبان کے قبضہ کے بعد وہاں کی صورتحال کو لے کر بھی میٹنگ میں گفتگو کی جانے والی تھی ۔

      خیال رہے کہ اس سے پہلے ہوئی سارک میٹنگوں کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ڈراما کرتے نظر آچکے ہیں ۔ اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد ستمبر میں ہوئی سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں کشیدگی صاف نظر آئی ۔ وزیر خارجہ جے شنکر کے خطاب کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ میٹنگ سے غائب رہے ۔ قریشی نے اس کو اپنی طرف سے ہندوستان کے بائیکاٹ کا طریقہ قرار دیا ۔

      سال 2019 کی میٹنگ میں وزیر خارجہ جے شنکر نے سرحد پار سے جاری دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا تھا ۔ ساتھ ہی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ سارک کے سامنے تین سب سے بڑے چیلنجز سرحد پار سے دہشت گردی ، کاروبار میں رکاوٹ اور رابطہ میں رکاوٹ ہیں ، جن کا حل کیا جانا چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: