ہوم » نیوز » عالمی منظر

ٹوائلیٹ میں لے جاکر لڑکی کے ساتھ کیا گیا غلط کام، 3 سال کم کی گئی ریپ کے مجرم کی سزا: جانیں پورا معاملہ

جنوبی کوریا (South Korea) میں ریپ (Rape Law)کے معملے میں سزا کو لیکر ڈھیلے رویے پر ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔

  • Share this:
ٹوائلیٹ میں لے جاکر لڑکی کے ساتھ کیا گیا غلط کام، 3 سال کم کی گئی ریپ کے مجرم کی سزا: جانیں پورا معاملہ
جنوبی کوریا (South Korea) میں ریپ (Rape Law)کے معملے میں سزا کو لیکر ڈھیلے رویے پر ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔

جنوبی کوریا  (South Korea)  میں ریپ (Rape Law)کے معملے میں سزا کو لیکر ڈھیلے رویے پر ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ دراصل ایک بچی کے ساتھ بیحد ہی دردناک طریقے سے ریپ (Rape With Brutality)  کی واردات کو انجام دینے والے قصوروار کی سزا کو کم کر دی گئی ہے۔ جنوبی کوریا کے ان سن میں 2008  میں 11 دسمبر کو ایک آٹھ سال کی بچی اسکول جا رہی تھی۔ اس دوران اس کا اغوا 56  سال کے شو دو سون نام کے شخص نے کر لیا۔ وہ شخص اس بچی کو پاس کے ایک چرچ کے ٹوائلیٹ میں لے گیا اور اس کی بے دردی سے پٹائی کی پھر ریپ کر ڈالا۔

متاثرہ کو جسمانی اور ذہنی طور پر پہنچائی چوٹ

بچی کا جسم جگہ۔جگہ سے زخمی ہوگیا اور دماغی حالت بھی ٹھیک نہیں رہی۔ اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اب پریشانی یہ ہے کہ ریپ کا ملزم جیل سے چھوٹ کر ان سن لوٹ آیا ہے اور متاثرہ کا گھر اس کے گھر سے محض ایک کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

مجرم کی ریپ کی سزا کم کر دی گئی۔

متاثرہ کے والد نے دکھی ہوکر بتایا کہ ہم بھاگنا نہیں چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ ہم حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ریپ کے جرم کی سزا کم کرکے متاثرہ کو چھپنے کیلئے مجبوت کیا ہے۔ بتادیں کہ شو کی سزا پندرہ سال سے کم کرکے بارہ سال کر دی گئی ہے۔


والد نے کہا کہ اس کی بیٹی اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ اسے ان سن سے نکال کر کہیں اور لے جایا جائے۔ وہ اپنے قریبی دوستوں میں شامل نہیں ہونا چاہتی ہے۔ متاثرہ کنبہ اس بات سے بھی ڈر رہا ہے کہ ان سن سے نکل کر کہیں اور جانے پر اس کی پہچان اجاگر نہ ہو جائے لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن بھی تو نہیں بچا ہے۔ واقعے کو گزرے کئی سال ہو گئے لیکن کچھ نہیں بدلا ہے۔ حادثے کا سارا بوجھ متاثرہ پر دال دیا گیا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 09, 2021 01:49 PM IST