ہوم » نیوز » عالمی منظر

جنوبی سوڈان کے حالات پہلے سے زیادہ بدتر

جوہانسبرگ۔ دنیا کے سب سے نوجوان ملک جنوبی سوڈان میں امن معاہدے کاایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن صدر سلوا كير اور سابق نائب صدر ريك ماشر کے حامیوں کے درمیان گذشتہ جولائی میں پھر شروع ہونے والی خونی جدوجہد سے ملک کے حالات پہلے سے زیادہ بدتر ہو گئے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 27, 2016 03:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جنوبی سوڈان کے حالات پہلے سے زیادہ بدتر
فوٹو: الجزیرہ ڈاٹ کام

جوہانسبرگ۔  دنیا کے سب سے نوجوان ملک جنوبی سوڈان میں امن معاہدے کاایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن صدر سلوا كير اور سابق نائب صدر ريك ماشر کے حامیوں کے درمیان گذشتہ جولائی میں پھر شروع ہونے والی خونی جدوجہد سے ملک کے حالات پہلے سے زیادہ بدتر ہو گئے ہیں۔ امن معاہدے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر معاہدے کی نگرانی کرنے والے گروپ جوائنٹ مانیٹرنگ اینڈ اویليوویشن کمیشن کے سربراہ اور بوٹسوانا کے سابق صدر فیستس موگیئي نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ سیکورٹی کا ہے اور اس سمت میں ہم نے سب سے کم پیش رفت کی۔ انہوں نے کہا، ’’دارالحکومت جبا کو فوج سے پاک کیا جانا چاہئے۔ زیادہ تر جوانوں کو ان علاقوں میں تعینات کرنا چاہئے جیسا امن معاہدے کے مطابق طے کیا گیا تھا اور یہاں امن بحال کرنے کے لئے غیر جانبدار فوج کی تعیناتی کرنی چاہئے‘‘۔


غور طلب ہے کہ سلوا كير اور باغی لیڈر ريك ماشر نے پانچ سالہ اس ملک میں جدوجہد ختم کرتے ہوئے 26 اگست 2015 کو امن معاہدے پر دستخط کئے تھے لیکن اس سال جولائی میں دونوں فریقوں کے درمیان پھر سے تشدد کی آگ بھڑک اٹھی اور جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود امن معاہدے پر خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ مسٹر موگیئی نے کہا، ’’امن معاہدے میں یہ نظم کیا گیا تھا کہ باغی فوجیں ساتھ مل کر قومی فوج کی طرح کام کریں۔ وہ ساتھ مل کر کام کرنے اور ہم آہنگی قائم کرنے میں ناکام رہے جس سے بالآخر تشدد بھڑک اٹھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کی ناکامی کے پیچھے بنیادی وجہ مسٹر كير اور ماشر کے درمیان باہمی دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے مسٹر كير کو منانے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ لیڈر ہیں اور انہیں لوگوں کے مفاد کے بارے میں سوچنا چاہئے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے‘‘۔ جولائی میں پھر سے خونی جدوجہد شروع ہونے کے بعد مسٹر كير نے ماشر کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا اور ان کی جگہ سابق اپوزیشن مذاکرات کار تبن دینگ گئی کو مقرر کر دیا۔ تاہم ماشر نے اسے مسترد کر دیا ہے۔


مسٹر دینگ کی تقرری پر مسٹر موگیئی نے کہا،’’یہ خوش آئند قدم ہے کہ کم سے کم اپوزیشن سے کسی کو تو حکومت میں شامل کیا گیا۔ یہ اچھا ہے کہ تبن اور مسٹر كير اب مل کر کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے اور ملک سے وعدہ کیا ہے کہ وہ امن معاہدے کے ساتھ جاری رکھنے کیلیے آگے بڑھیں گے۔ اگرچہ اب جنوبی سوڈان کے لوگوں کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہے‘‘۔ جنوبی سوڈان نو جولائی 2011 کو ریفرنڈم میں 100 فیصد ووٹوں کے ساتھ سوڈان سے آزاد ہوا تھا۔ دسمبر 2013 میں مسٹر كير کی طرف سے پہلے نائب صدر پر گرانے کی سازش رچنے کا الزام لگائے جانے کے بعد ملک میں جدوجہد شروع ہوئی اور یہاں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو گئے۔ اس جدوجہد میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔


First published: Aug 27, 2016 03:02 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading