ہوم » نیوز » عالمی منظر

چودہ سال کی لڑکی کی 4 لوگوں نے کی اجتماعی آبروریزی ، عدالت نے کہا : لڑکی تھی "بیہوش" تو نہیں ہوا ریپ

اسپین میں لوگوں کے درمیان اجتماعی آبروریزی کے ایک کیس میں فیصلہ آنے کے بعد کافی غصہ ہے ۔

  • Share this:
چودہ سال کی لڑکی کی 4 لوگوں نے کی اجتماعی آبروریزی ، عدالت نے کہا : لڑکی تھی
علامتی تصویر

اسپین میں لوگوں کے درمیان اجتماعی آبروریزی کے ایک کیس میں فیصلہ آنے کے بعد کافی غصہ ہے ۔ لوگ اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کرکے اپنے غصے کا اظہار کررہے ہیں ۔ فیصلہ میں آبروریزی کے ملزمین کو اس بنیاد پر بری کردیا گیا کہ جس 14 سال کی لڑکی کی آبروریزی کا ملزمین پر الزام تھا ، وہ لڑکی آبروریزی کے وقت بیہوش تھی ۔


بارسلونا کی ایک عدالت نے جمعرات کو اس معاملہ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ان چار لوگوں کو صرف جنسی استحصال کا ملزم تسلیم کیا جبکہ انہوں نے آبروریزی کی تھی ۔ انہیں صرف 10 سے 12 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ اجتماعی آبروریزی کے معاملہ میں سخت سزا کا بندوبست ہے ۔ علاوہ ازیں ان پر 12000 یورو ( تقریبا 9 لاکھ 50 ہزار روپے ) کا جرمانہ عائد کیا گیا ۔


فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ملزمین کے جرم کو آبروریزی نہیں کہا جاسکتا ہے ، کیونکہ لڑکی اس دوران شراب اور ڈرگس کی وجہ سے بیہوش تھی ، جس کی وجہ سے ملزمین نے اس کے ساتھ تشدد یا زبردستی نہیں کی ۔ اسپین کے قانون کے مطابق آبروریزی کے جرم کو ثابت کرنے کیلئے ایسی صورتحال ہونی ضروری ہے ۔


اسپین کے نائب وزیر اعظم کارمین کالوو نے اس سلسلہ میں کہا ہے کہ خواہ حکومت عدالت کے فیصلہ پر کچھ بھی نہ کہے ، لیکن اس نے قانون میں تبدیلی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیا ہے ۔ تاکہ قانونی طور پر واضح کیا جاسکے کہ جسمانی تعلقات قائم کئے جانے کیلئے باہمی رضامندی ضروری ہے ۔

خیال رہے کہ آبروریزی کا یہ واقعہ 2016 میں پیش آیا تھا ۔ بارسلونا کے پاس منریسا نام کے قصبہ میں یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔ یہاں ایک خالی پڑی فیکٹری میں لڑکے اس لڑکی کو لے کر شراب پینے کیلئے گئے تھے ۔ عدالت نے کہا کہ آبروریزی کی متاثرہ لڑکی آبروریزی کے دوران بیہوش تھی ، جس کی وجہ سے وہ جسمانی تعلقات کیلئے رضامندی یا عدم رضامندی نہیں دے سکتی تھی ۔ یہی نہیں جن لڑکوں نے آبروریزی کی ، انہوں نے بھی اس کے ساتھ کسی طرح زور زبردستی یا تشدد نہیں کیا ۔

ادھر بارسلونا کے میئر نے بھی اس فیصلہ کی تنقید کی ہے اور اس کو سمجھ سے بالاتر ایک فیصلہ بتایا ہے ۔ انہوں نے اس واردات کو واضح طور پر اجتماعی آبروریزی قرار دیا ۔ اسپین میں حقوق نسواں کے ایک گروپ کی رکن ماریسا سولیٹو نے کہا کہ یہ ایک اور ثبوت ہے کہ قانون میں تبدیلی کی جانی چاہئے ۔
First published: Nov 03, 2019 11:14 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading