உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی عرب کو بڑا جھٹکا ، اسپین نے 400 لیزرگائیڈیڈ بم کا سودا کیا منسوخ

    شہزادہ محمد بن سلمان: فائل فوٹو۔

    شہزادہ محمد بن سلمان: فائل فوٹو۔

    عالمی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اسپین نے سعودی عرب اور خلیج ممالک کے ساتھ فوجی ساز سامان فروخت کرنے پر نظر ثانی کرنا شروع کردیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      عالمی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اسپین نے سعودی عرب اور خلیج ممالک کے ساتھ فوجی ساز سامان فروخت کرنے پر نظر ثانی کرنا شروع کردیا۔ اسی پس منظر میں اسپین نے سعودی عرب کو دفاعی ہتھیار فروخت کرنے کا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے لیزر گائیڈڈ بم دینے سے صاف انکار کردیا۔
      بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2015میں اسپین کی قدامت پسند جماعت کے دور حکومت میں سعودی عرب نے لیزر گائیڈڈ بم کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا تاہم اب مرکز میں بننے والی میڈرڈ حکومت نے ریاض سے معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق ہسپانوی حکومت سے ہونے والے معاہدہ کی رو سے 400 لیزر گائیڈڈ بم سعودی عرب کو فراہم کئے جانے تھے اور اس سودے کے لیے ریاض حکومت 10 ملین ڈالر سے زائد کی رقم پیشگی ادا کرچکی تھی۔
      نئی سوشلسٹ ہسپانوی حکومت نے دوسرے ممالک کو جنگی ساز و سامان اور جدید ہتھیار فروخت کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کا وعدہ کررکھا ہے۔ ترجمان وزارت دفاع نے معاہدہ منسوخی کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے فوری طور پرزیادہ وضاحت دینے سے انکار کیا جب کہ میڈرڈ میں سعودی سفارت خانہ بھی اس معاملے پر خاموش ہے۔
      ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسپین خلیجی ممالک کو فوجی ساز و سامان اور ہتھیار فروخت کرنے والا چوتھا بڑا ملک اور طویل عرصے سے سعودی عرب کا تجارتی اتحادی ہے۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی یمن سے جنگ پر اسپین کی نئی حکومت نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا، لیزر گائیڈڈ بموں کی ڈیل منسوخ کرنے کا عمل اسی تشویش کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔
      First published: