ہوم » نیوز » عالمی منظر

Burqa ban in Sri Lanka: سری لنکا کابینہ میں برقع پر پابندی کی تجویز منظور، سری لنکا کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ

سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ سارت ویرسکارا (Sarath Weeraskara) نے مارچ میں پہلی بار اس پابندی کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ ’’برقع جیسا لباس مذہبی انتہا پسندی کی علامت ہے‘‘۔

  • Share this:
Burqa ban in Sri Lanka: سری لنکا کابینہ میں برقع پر پابندی کی تجویز منظور، سری لنکا کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ
فائل فوٹو

سری لنکا کی کابینہ نے منگل کے روز ’’قومی سلامتی‘‘ کے لیے لاحق خطرات کی وجہ سے عوامی مقامات پر ہر طرح کے چہروں کے پردے بشمول برقعے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔اس سے ایک ماہ قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UN Human Rights Council) کی جانب سے ’’سری لنکا میں مفاہمت، احتساب اور انسانی حقوق‘‘ پر ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اسی ذیل میں برقعے کی پابندی والی تازہ تجویز کو دیکھا جارہا ہے۔


سری لنکا میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث فریقوں کے احتساب کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی بھی سخت تنقید کی جارہی ہے۔ اس قرار داد کو سری لنکا میں حق مذہبی آزادی (right to freedom of religion) کے خلاف کہا جارہا ہے۔ جس پر یہاں کے مسلمانوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔


سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ سارت ویرسکارا (Sarath Weeraskara) نے مارچ میں پہلی بار اس پابندی کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ ’’برقع جیسا لباس مذہبی انتہا پسندی کی علامت ہے‘‘۔


تاہم اس اعلان کے وقت اقوام متحدہ کی مذکورہ بالا قرارداد پر رائے شماری نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سری لنکا کی حکومت نے واضح کیا کہ اس وقت برقعے پر پابندی محض ایک تجویز تھی، اب چونکہ اقوام متحدہ کی بھی رپورٹ آگئی ہے۔ اسی لیے برقعہ پر پابندی ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ضروری مشاورت کے لئے کافی وقت دیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر بارئے حق مذہبی آزادی و عقائد احمد احمد شہید (Ahmed Shaheed) نے کہا کہ ’’برقعے پر پابندی کسی کے مذہب یا اعتقاد اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کے بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے‘‘۔


سری لنکا میں ماضی میں بھی کئی پالیسیوں کے ذریعہ نے مسلمان آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مارچ 2020 میں حکومت نے یہ حکم دیا تھا کہ کووڈ۔19 سے متاثر ہو کر مرنے والے مسلمانوں کی لاشوں کو دفنانے کے بجائے جلایا جائے۔ جس کے بعد یہاں کی مسلم تنظیموں نے کئی مہینوں تک احتجاج کیا۔ اس کے بعد حکومت نے رواں برس فروری میں ہی لاشوں کی تدفین پر پابندی ختم کردی کیونکہ لاشوں کو جلانا اسلامی عقائد کے منافی ہے۔

قانون بننے کے لئے اب اس تجویز کو پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے بھیجنے سے پہلے قانونی مسودہ سازوں کو بھیجا جائے گا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 30, 2021 10:57 AM IST