உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sri Lanka Economic Crisis:سونے کی لنکا آج ہے کنگال!جانیے کیوں سری لنکا میں معاشی بحران سے مچا ہے ہنگامہ

    سری لنکا بحران:سونے کی لنکا کیوں ہی کنگال!

    سری لنکا بحران:سونے کی لنکا کیوں ہی کنگال!

    Sri Lanka Economic Crisis: جون کے آخر میں حکومت نے دو ہفتوں کے لیے غیر ضروری گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سری لنکا 1970 کے بعد ایسا کرنے والا پہلا ملک ہے۔ یہاں ایندھن کی فروخت پر سخت پابندی ہے۔

    • Share this:
      Sri Lanka Economic Crisis:سری لنکا جو کبھی سونے کی لنکا کہلاتا تھا آج دانے دانے کا محتاج ہے۔ ہندوستان کے اس پڑوسی ملک میں گہرے ہوتے معاشی بحران نے ایسی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ عوام سڑکوں پر ہیں اور ان کے غصے پر قابو پانے کے لیے حکومت نے فوج کو کچھ بھی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ گو گوٹا گو(Go Gota Go ) کے نعرے لگانے والے مظاہرین ملک کے صدر گوٹابایا راجا پکسے(Gotabaya Rajapaksa) کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور بالآخر انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ گوٹابایا کی طرف سے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے(Ranil Wickremesinghe) کو قائم مقام صدر بنائے جانے کو بھی پسند نہیں کرتے۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ گوٹابایا کے فرار ہونے کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔ آئیے یہاں بتائیں کہ سری لنکا کس طرح بد سے بدتر کی طرف پہنچا۔

      مہنگائی کی مار سے لنکا بے حال
      سری لنکا میں مہنگائی کی شرح اب بھی 50 فیصد سے تجاوز کر رہی ہے۔ ملک کے پاس بسوں، ٹرینوں اور طبی گاڑیوں جیسی ضروری خدمات کے لیے بھی اتنا ایندھن نہیں ہے اور ملک کے پاس درآمد کرنے کے لیے اتنا زرمبادلہ بھی نہیں ہے۔ ایندھن کی یہ قلت اس سال کے آغاز میں ہی ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ جون کے آخر میں حکومت نے دو ہفتوں کے لیے غیر ضروری گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سری لنکا 1970 کے بعد ایسا کرنے والا پہلا ملک ہے۔ یہاں ایندھن کی فروخت پر سخت پابندی ہے۔ اسکول اور دفاتر ایندھن کی بچت کے لیے بند ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کون بن سکتا سری لنکا کا اگلا صدر؟ کیا نئے صدر کے آتے ہی Sri Lanka کے حالات ہوجائیں ٹھیک؟

      یہ بھی پڑھیں:
      UK PM Race:وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں رشی سنک کی ایک اور چھلانگ،دورے راونڈمیں بھی رہے اول نمبر

      پیسے ہیں سب ختم
      زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے سری لنکا بیرون ملک سے اپنی ضرورت کا سامان نہیں خرید پارہا ہے۔ سری لنکا اپنی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی قرضوں پر سود ادا کرنے میں ناکام رہا۔ رواں سال مئی میں 30 دن مزید دینے کے بعد بھی سری لنکا 708 ملین ڈالر کی قرض کی قسط ادا نہیں کر سکا۔ مرکزی بینک کے گورنر پی نندلال ویراسنگھے نے اس کی ادائیگی کے سلسلے میں اپنے ہاتھ کھڑے کردیے تھے۔ سری لنکا نے بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے تقریباً 3.5 بلین ڈالر کی بیل آؤٹ رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے وہ آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اتحادیوں سے پانچ ارب ڈالر کی مدد کی توقع رکھتا ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ سری لنکا اپنے قرض کی ادائیگی میں نادہندہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں ناکامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں ضروری فنڈز لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک کی کرنسی اور معیشت پر اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچ سکتی ہے اور سری لنکا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اس کی کریڈٹ ریٹنگ سے دنیا کے ممالک کا اعتماد اٹھ گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: