ہوم » نیوز » عالمی منظر

سری لنکا کی خارجہ پالیسی ناوابستہ ہے ، ہندوستان اور چین دونوں قابل قدر دوست ہیں: مہندا راجاپکسے

راجا پکسے نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان جاری تنازع میں سری لنکا کسی کی حمایت نہیں کرے گا اور خود کو اس سے دور رہی رکھے گا ۔

  • Share this:
سری لنکا کی خارجہ پالیسی ناوابستہ ہے ، ہندوستان اور چین دونوں قابل قدر دوست ہیں: مہندا راجاپکسے
سری لنکا کی خارجہ پالیسی ناوابستہ ہے ، ہندوستان اور چین دونوں قابل قدر دوست ہیں: مہندا راجاپکسے

نئی دہلی۔ سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکسے نے سی این این۔ نیوز 18 کو ایک خصوصی انٹرویو دیا کیونکہ بدھ کے روز فعال سیاست میں ان کے 50 سال پورے ہو گئے۔ 1970 میں 24 سال کی عمر میں سری لنکا کی پارلیمنٹ کے سب سے کم عمر رکن پارلیمنٹ  منتخب ہونے والے راجا پکسے دو بار سری لنکا کے صدر اور تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وہ 1977 سے 1993 تک جے آر جیووردھنے اور راناسنگھے پریم داسا کے دور اقتدار کے دوران حزب اختلاف کی ایک سرکردہ اور نوجوان آواز بھی تھے۔ سال 2009 میں ایک علیحدہ وطن کے لئے 30 سالہ طویل وحشیانہ تمل ایلم جنگ (ایل ٹی ٹی ای) کے خاتمے اور اپنے سابقہ دور حکومت میں ملک کی معاشی ترقی کو تیز تر کرنے کا سہرا انہیں کے سر جاتا ہے۔ راجا پکسے اب وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی تیسری مدت کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی گوٹابایا صدر کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔


اس آزادانہ بات چیت میں راجا پکسے نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان جاری تنازع میں سری لنکا کسی کی حمایت نہیں کرے گا اور خود کو اس سے دور رہی رکھے گا ۔ راجا پکسے نے کہا کہ دونوں ہی ممالک کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں ، اس لئے وہ اس معاملہ سے خود کو دور رہی رکھے گا ۔ تمل آندولن پر راجا پکسے کہا کہ ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ الگ ملک بنانے کا آپشن مناسب نہیں ہے ۔ راجا پکسے نے اسلامک یا تمل کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی بات کہی ۔


سری لنکا سے چین کے رشتوں سے وابستہ ایک سوال کے جواب میں راجا پکسے نے کہا کہ سری لنکا ناوابستہ خارجہ پالیسی پر ہی عمل کرنا جاری رکھے گا ۔ چین اور ہندوستان دونوں ہی ہمارے قریبی دوست ہیں ۔ جواہر لال نہر اور چینی پریمیئر جھوو اینلائی نے پنج شیل اصول کو آگے بڑھایا تھا ، جس میں علاقائی سالمیت ، خودمختاری ، عدم جارحیت کی پالیسی ، ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہ کرنا ، مساوات اور پرامن بقائے باہمی جیسے اقدار شامل ہیں ۔ سری لنکا ابھی بھی ان اصولوں پر یقین کرتا ہے اور آگے بھی انہیں کے مطابق خارجہ پالیسی جاری رہے گی ۔


اسلامک دہشت گردی سے وابستہ ایک سوال کے جواب میں راجا پکسے نے کہا کہ یہ یقینی طور پر ایک سنگین معاملہ ہے ۔ یہ واضح ہے کہ پچھلی حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی ۔ اگر وہ لوگ اقتدار میں برقرار رہتے تو ہندوستان اور بنگال کی خلیج میں واقع دیگر پڑوسی ممالک کیلئے بھی خطرہ بڑھ جاتا ۔ سری لنکا میں ایسٹر کے دن چرچ پر کیا گیا حملہ ، دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا اب تک کا ایشیا یا کہیں دنیا میں عام شہریوں کو نشانہ بناکر کیا گیا سب سے بڑا حملہ ہے ۔ سبھی خودکش حملہ آور اچھے گھروں سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان تھے ۔ اس حکومت کے پاس اس طرح کے حملوں کی پیشگی اطلاع بھی تھی ، لیکن وہ روک نہیں سکی ۔ راجا پکسے نے کہا کہ دہشت گردی خواہ تمل ہو یا اسلامک ، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

تمل ملک کے مطالبہ کا کوئی بنیاد نہیں

تمل مسئلہ سے وابستہ ایک سوال کے جواب میں راجا پکسے نے کہا کہ تمل لیڈروں کے ساتھ طویل عرصہ سے بات چیت چل رہی ہے ۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ یہ ممکن نہیں ہے ۔ اس ملک میں ان لوگوں نے الگ تمل ملک کے مطالبہ کی بنیاد پر کافی طویل عرصہ تک سیاست کرلی ہے ۔ یہ ایک قابل عمل تجویز نہیں ہے ۔ زیادہ تر تمل شمال اور مشرق کے باہر رہتے ہیں ۔ مشرق میں تمل اور اقلیتی مسلم آبادی رہتی ہے ۔ کولمبو شہر کی زیادہ تر آبادی تمل اور مسلم ہے ۔ ایسے میں سری لنکا کے نارتھ ایسٹ علاقہ میں ایک تمل ملک کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ہے ۔
First published: May 28, 2020 04:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading