உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sri Lanka Crisis :سری لنکا کے صدر کا عہدہ چھوڑنے سے انکار، کولمبو میں فوج تعینات، اندرون ہفتہ نیا وزیراعظم منتخب کرنے کا وعدہ

    Youtube Video

    Sri Lanka Crisis : سیکرٹری دفاع جنرل (ر) کمل گونارتنے نے واضح کیا کہ سری لنکا میں کبھی فوجی حکومت نہیں ہوگی اور وہ ملک میں جاری سیاسی اور اقتصادی بحران میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار کے حوالے سے یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔

    • Share this:
      Sri Lanka Crisis :کولمبو: سری لنکا کی حکومت کی آزادی کے بعد بدترین معاشی بحران سے نمٹنے میں ناکامی کے خلاف جاری مظاہروں کے درمیان صدر گوٹابایا راجا پاکسے نے بدھ کو اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، انہوں نے اس ہفتے ایک نیا وزیر اعظم اور نوجوان کابینہ مقرر کرنے کا وعدہ کیا، جس میں راجا پکسے خاندان کا کوئی فرد شامل نہیں ہوگا۔ اس سے قبل سکیورٹی فورسز نے صورتحال سے نمٹنے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بکتر بند گاڑیوں میں ملک بھر میں گشت کیا۔

      پارلیمنٹ کو دئیے جائیں گے زیادہ حقوق
      دارالحکومت کولمبو اور اس کے نواحی علاقوں کی گلیوں میں بھی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ سیکورٹی فورسز کو عوامی املاک کو لوٹنے یا نقصان پہنچانے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے سے ملاقات کے بعد رات گئے قوم سے خطاب میں صدر گوٹابایا نے کہا کہ نئے وزیر اعظم اور حکومت کی تقرری کے بعد آئین میں 19ویں ترمیم کو شکل دینے کے لیے ایک آئینی ترمیم لائی جائے گی، جس کے ذریعے پارلیمنٹ کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔

      سیاسی جماعتوں سے بات چیت شروع
      صدر نے کہا کہ انہوں نے ملک کو انتشار کی طرف جانے سے روکنے کے لیے سیاسی جماعتوں سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ نئے وزیر اعظم اور حکومت کو ملک کو آگے لے جانے کے لیے نئے پروگرام شروع کرنے کا موقع دیں گے۔ نئی حکومت کو 225 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Sri Lanka crisis: سری لنکامیں دیکھتےہی گولی مارنےکےاحکامات جاری، مہندا خاندان کی مشکلات...

      دنگائیوں پر سخت کارروائی کے احکامات
      پیر کو صدر کے بڑے بھائی مہندا راجا پکسے کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سے ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے۔ تشدد کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ انہوں نے پولیس اور تینوں اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سری لنکا تشدد: فسادیوں سے گھرے سابق وزیر اعظم مہندا نے فیملی کے ساتھ لی نیول بیس میں پناہ

      فوجی حکومت لاگو نہیں کرنے کا مطالبہ
      اس درمیان، سیکرٹری دفاع جنرل (ر) کمل گونارتنے نے واضح کیا کہ سری لنکا میں کبھی فوجی حکومت نہیں ہوگی اور وہ ملک میں جاری سیاسی اور اقتصادی بحران میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار کے حوالے سے یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: