ہوم » نیوز » عالمی منظر

غزہ جنگ کے بعدتقریباً2 لاکھ فلسطینیوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے: ڈبلیوایچ او

ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحرمتوسط ریجن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارے نے ان فلسطینیوں کی طبی معاونت کے لیے اپنی کاوششیں تیز کردی ہیں۔بیان کے مطابق غزہ میں 77ہزار سے زیادہ افراد اپنے مکانات تباہ ہونے سے بے گھر ہوگئے ہیں۔

  • Siasat
  • Last Updated: Jun 05, 2021 07:31 PM IST
  • Share this:
غزہ جنگ کے بعدتقریباً2 لاکھ فلسطینیوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے: ڈبلیوایچ او
تباہی اور جنگ بندی کے بعد غزہ میں امداد پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔(تصویر:اے پی)

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردارکیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ ماہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مسلح تنازع کے بعد قریباً دو لاکھ فلسطینیوں کو مختلف النوع طبّی امداد کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحرمتوسط ریجن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارے نے ان فلسطینیوں کی طبی معاونت کے لیے اپنی کاوششیں تیز کردی ہیں۔بیان کے مطابق غزہ میں 77ہزار سے زیادہ افراد اپنے مکانات تباہ ہونے سے بے گھر ہوگئے ہیں۔اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 30 مراکز صحت مکمل یاجزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔



ڈبلیو ایچ او کے عہدہ دار ریک پیپرکورن کا کہنا ہے کہ ’’صورت حال بہت ناگفتہ بہ ہے،ڈبلیوایچ او کواس پر سخت تشویش لاحق ہے۔غزہ میں بلاتعطل ضروری امدادی اشیاء پہنچائی جانی چاہییں اور جس کسی مریض کو بھی غزہ سے باہر لے جانے کی ضرورت پڑے،اس کی اجازت دی جائے۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’ فلسطینیوں کی زندگیاں زبوں حالی سے دوچار ہیں۔تنازع سے متاثرہ بہت سے افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے اور انھیں کووِڈ-19 سمیت صحت کے مختلف خطرات کا سامنا ہے۔


واضح رہے کہ اپریل میں بعض حملوں کے بعد، مئی 2021 میں تشدد کا آغاز مقبوضہ بیت المقدس سے ہوا جو یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں مقدس مقام ہے۔ یادرہے مصر کے توسط سے اسرائیل ور فلسطینی گروپوں کے بیچ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے نفاذ کا آغاز 21 مئی کی درمیانی شب 2 بجے سے ہوا۔ یہ فائر بندی 11 روز تک جاری رہنے والی عسکری جارحیت کے بعد سامنے آئی جو 2014ء کی جنگ کے بعد اب تک کی شدید ترین لڑائی قرار دی جا رہی ہے۔ اس دوران میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں واقع ہوئیں جن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 05, 2021 07:31 PM IST