உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی عرب : قطیف اور مدینہ منورہ میں تین بڑے دھماکے ، چار اموات

    مدینہ :  سعودی عرب کے كاتف شہر اور مدینہ منورہ میں دو بڑے دھماکے ہوئے ہیں ۔ مسجد کے قریب ایک حملہ آور نے خود کو بم سے اڑا لیا ۔ حملے میں متعدد  افراد کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

    مدینہ : سعودی عرب کے كاتف شہر اور مدینہ منورہ میں دو بڑے دھماکے ہوئے ہیں ۔ مسجد کے قریب ایک حملہ آور نے خود کو بم سے اڑا لیا ۔ حملے میں متعدد افراد کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

    مدینہ : سعودی عرب کے كاتف شہر اور مدینہ منورہ میں دو بڑے دھماکے ہوئے ہیں ۔ مسجد کے قریب ایک حملہ آور نے خود کو بم سے اڑا لیا ۔ حملے میں متعدد افراد کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      مدینہ :  سعودی عرب کے قطیف شہر اور مدینہ منورہ میں تین بڑے دھماکے ہوئے ہیں ، جس میں اب تک چار اموات کی خبر ہے ۔ مہلوکین میں دو سیکورٹی اہلکاربھہ شامل ہیں جبکہ کچھ دیگر خبروں میں  بتایا گیا ہے کہ چاروں سیکورٹی اہلکار ہی تھے ۔

      مسجد نبوی کے قریب ایک حملہ آور نے خود کو بم سے اڑا لیا ۔ یہ حملہ کافی بھیانک تھا ۔ اس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی ۔ العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ مسجد نبوی  سیکورٹی ہیڈ کوارٹر کے نزدیک ہوا ہے ۔ عینی شاہدین کے مطابق مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب ایک کار میں بڑا دھماکہ ہوا ۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ارد گرد موجود لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔

      ادھر مشرقی قطیف شہر میں دو دھماکے ہوئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق قطیف میں خودکش حملہ آور نے خود ایک شیعہ مسجد کے قریب خود کو دھماکہ سے اڑا لیا ۔ تاہم اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے یا مرنے کی فوری طور پر کوئی خبر نہیں ہے ۔ تاہم میڈیا کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ کے بعد فرش پر کچھ جسم کے ٹکڑے زمین پر پڑے ہوئے تھے ۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا اور اس نے زمین پر ٹکڑے بکھڑے ہوئے دیکھے تھے ۔

      دھماکوں کے بارے میں سرکاری طور پر فی الحال کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔ تاہم مسجد نبوی کے پاس دھماکہ کے بارے میں میڈیا رپورٹس الگ الگ ہیں ۔ کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا اور کچھ کے مطابق یہ دھماکہ گیس سلینڈر کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا ۔

      حملہ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے ہوا ۔ اس وقت مغرب کی نماز کا وقت تھا ، جس کی وجہ سے وہاں کافی لوگ ارد گرد موجود تھے ۔ خود کش حملے سے وہاں بھگدڑ مچ گئی۔
      First published: