Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » عالمی منظر

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کی بات کرنے والے امریکہ میں 46 فیصد سیاہ فام امتیاز کا شکار

    امریکہ میں مطالعہ کی بنیاد پر کمپنی گیلپ کی پیر کو جاری ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 46 فیصد سیاہ فام خاص جگہوں یا خاص حالات کی بجائے روزمرہ کی زندگی میں بھی امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated: Aug 23, 2016 02:09 PM IST
    • Share this:
    • author image
      NEWS18-Urdu
    دنیا بھر میں انسانی حقوق کی بات کرنے والے امریکہ میں 46 فیصد سیاہ فام امتیاز کا شکار
    امریکہ میں مطالعہ کی بنیاد پر کمپنی گیلپ کی پیر کو جاری ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 46 فیصد سیاہ فام خاص جگہوں یا خاص حالات کی بجائے روزمرہ کی زندگی میں بھی امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں۔

    واشنگٹن۔  دنیا بھر میں انسانی حقوق کی بات کرنے والے امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے ساتھ شدید تعصب اور امتیازہو رہا ہے اور ایک سروے کے مطابق 46 فیصد سیاہ فام نے اپنے ساتھ روز مرہ کی زندگی میں بھی امتیازی سلوک کے واقعات کی بات قبول کی ہے۔ امریکہ میں مطالعہ کی بنیاد پر کمپنی گیلپ کی پیر کو جاری ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 46 فیصد سیاہ فام خاص جگہوں یا خاص حالات کی بجائے روزمرہ کی زندگی میں بھی امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں۔ گیلپ نے سات جون سے یکم جولائی کے درمیان یہ سروے کرایا تھا۔ سروے میں گزشتہ ایک دہائی میں کام کی جگہ پر، خریداری کرتے ہوئے، پولیس سے متعلقہ کام کاج، بار یا ریستوران میں اور ہسپتال میں امتیازی سلوک کے پانچ حالات کے بارے میں سوال پوچھے گئے تھے۔ 46 فیصد سیاہ فاموں نے کم سے کم ایک حالت میں بدسلوکی کی بات قبول کی جبکہ 25 فیصد نے دو، 20 فیصد نے تین، سات فیصد نے چار اور تین فیصد نے تمام پانچوں حالات میں زیادتی کی بات قبول کی۔


    سروے میں سفید فاموں سے بھی سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں سوال پوچھے گئے۔ گزشتہ دوبر سوں میں سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک کی باتوں کو قبول کرنے والے سفید فاموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں سب سے چونکانے والی بات یہ رہی کہ بڑی تعداد میں سفیدفام لوگوں نے کالوں کے ساتھ پولیس کے غلط استعمال کی بات کھل کر قبول کی۔ تاہم سیاہ فام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی باتیں نئی نہیں ہیں لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے کہ خریداری کرتے ہوئے، ریستوران میں، بار میں، تھیٹر میں یا تفریح کے مقامات میں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ 


    سروے کے مطابق 52 فیصد سیاہ فاموں اور 17 فیصد سفید فاموں نے کہا کہ کام کی جگہ پر کالوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ حال ہی میں پولیس کی طرف سے سیاہ فام نوجوان کی وحشیانہ پٹائی کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں سیاہ فام احتجاجی مظاہروں کے لئے سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ امریکہ میں وقفے وقفے میں کالوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جس کے بارے میں سیاہ فام کمیونٹی میں پولیس اور قانون و انتظام کے سلسلے میں کافی غصہ بھی ہے۔

    First published: Aug 23, 2016 02:08 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading