உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سوئٹزرلینڈ کے لوگوں نے مفت سیلری لینے سے کیا انکار

    جنيوا : بغیر کام کئے اگر حکومت ہر مہینے سیلری دیتی رہے ، تو اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے ۔ لیکن سوئٹزرلینڈ کے لوگوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے ۔

    جنيوا : بغیر کام کئے اگر حکومت ہر مہینے سیلری دیتی رہے ، تو اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے ۔ لیکن سوئٹزرلینڈ کے لوگوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے ۔

    جنيوا : بغیر کام کئے اگر حکومت ہر مہینے سیلری دیتی رہے ، تو اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے ۔ لیکن سوئٹزرلینڈ کے لوگوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے ۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      جنيوا : بغیر کام کئے اگر حکومت ہر مہینے سیلری دیتی رہے ، تو اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے ۔ لیکن سوئٹزرلینڈ کے لوگوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے ۔ یہاں ڈیڑھ سال سے مہم چل رہی تھی جس میں لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کے تمام لوگوں کو حکومت کم از کم سیلری دے ، وہ بھی بغیر کوئی کام کئے ۔ لیکن ملک کے 78 فیصد لوگوں نے اسے ٹھکرا دیا ہے ۔  اسی کے ساتھ یہ تجویز بھی خارج ہوگئی  ۔

      دراصل ملک میں بیشتر لوگوں کے پاس کام کاج نہیں ہے ۔ فیکٹریوں میں لوگوں کی جگہ روبوٹ نے لے لی ہے جس سے ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔ کام کم ہونے سے ملک میں غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہوگیا ہے ، جس کے پیش نظر لوگوں نے یونیورسل بیسک انکم نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ لیكن 22 فیصد لوگوں نے جہاں اس تجویز کے حق میں ووٹنگ کی وہیں ، 78 فیصد لوگوں نے اس تجویز کے خلاف ووٹ کیا ، جس سے یہ تجویز خارج ہوگئی ۔  اگر یہ پاس ہو جاتا تو حکومت کو ہر ماہ ملک کے تمام شہریوں اور 5 سال سے وہاں رہ رہے ان غیر ملکیوں کو جنہوں نے وہاں کی شہریت لے لی ہے ، ان کو بیسک سیلری دینی پڑتی ۔

      غور طلب ہے کہ ایسا شاید دنیا میں پہلی مرتبہ ہوا ہے جب ایسی کوئی تجویز کسی ملک میں شہریوں کے درمیان رکھی گئی تھی ۔  اس تجویز میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ ملک کے شہریوں کے لئے ایک مقررہ انکم کی کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟ ان شہریوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے ، جو سوئٹزرلینڈ میں پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے قانونی طور پر رہ رہے ہیں ۔
      First published: