உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیریا: داعش کا 'جہنم والا چوک' اب عاشق جوڑوں کیلئے بن گیا ہے میٹنگ پوائنٹ، پہلے ہوتا تھا یہاں وحشت سے بھرا کام

    چوک پر بیٹھے 25 سالہ نادر الحسین کہتے ہیں کہ داعش کے دور میں ہم یہاں سے گزرنے سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں ہم خون اور وحشت نہ دیکھیں

    چوک پر بیٹھے 25 سالہ نادر الحسین کہتے ہیں کہ داعش کے دور میں ہم یہاں سے گزرنے سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں ہم خون اور وحشت نہ دیکھیں

    چوک پر بیٹھے 25 سالہ نادر الحسین کہتے ہیں کہ داعش کے دور میں ہم یہاں سے گزرنے سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں ہم خون اور وحشت نہ دیکھیں

    • Share this:
      راکا:  شام  (Syria) میں داعش  (ISIS)  کے دور میں 'جہنم والا چوک' کہا  جانے والا النعیم اسکوائر (Al-Naim square)   کی تصویر آج مکمل طور پر بدل  چکی ہے۔ یہ جگہ اب محبت کرنے والوں، اہل خانہ اور دوستوں کے لیے بیٹھنے کا بہترین ٹھکانہ بن گیا ہے۔ اس جگہ کی جو تصویر اب دیکھی جا رہی ہے، وہ شامی حکومت کے دور میں  نہیں تھی۔ لوگ یہاں آنے سے بھی ڈرتے تھے۔ یہاں لوگوں کو پھانسی دی جاتی تھی۔ یہاں سرعام قتل عام ہوا کرتا تھا۔ اس چوک پر اسلامی شرعی قانون کے تحت جہادیوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا تھا اور بہت سے لوگوں کے سر قلم کیے گئے تھے۔
      چوک پر بیٹھے 25 سالہ نادر الحسین کہتے ہیں کہ داعش کے دور میں ہم یہاں سے گزرنے سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں ہم خون اور وحشت نہ دیکھیں۔ نادر  حسین کا کہنا ہے کہ اس دوران میں نے کبھی اپنی گرل فرینڈ سے ملنے کی ہمت نہیں کی۔ ہم صرف فون پر بات کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ہمیں سزا نہ ہو جائے۔ شام میں داعش کے خاتمے کے دو سال بعد سب کچھ بدل گیا ہے۔ اس چوک کے بیچو بیچ ایک پانی کا چشمہ لگایا گیا ہے اور چاروں طرف محراب والے ستون بنائے گئے ہیں۔ رات کے وقت، چوک رنگین لیزر لائٹس سے چمکتا ہے اور دنیا کے سامنے ایک  بھیانک و خوفناک شبیہ کو پیچھے چوڑ کر یہ چوک اب ایک پر کشش میں بدل گیا ہے۔
      یہاں بیٹھے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم اس علاقے میں آنے سے بھی گریز کرتے تھے کیونکہ ہم کٹے ہوئے سر کو یہاں لٹکتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ احمد الحماد کا کہنا ہے کہ یہ گول چکر ہمیں اس تراسدی کی یاد دلاتا ہے جس میں ہم رہتے تھے۔ یہ چوک آج بھی ہمیں اس وقت کی خوفناک دکھی یادوں کی طرف لے جاتا ہے۔ آج گول چکر ہر طرف کیفے اور ریستوراں سے گھرا ہوا ہے، جو اسے خاندانوں اور جوڑوں کے لیے یکساں مقبول مقام بنا رہا ہے۔ 24 سالہ مناف کہتے ہیں، ’’النعیم چوک جہنم سے جنت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ محبت کرنے والے  جوڑے بھی یہاں آتے ہیں۔ گول چکر کے ارد گرد، بچے بینچوں کے درمیان دوڑتے ہیں جب کہ مرد اور عورتیں باتیں کرتے اور تصویریں کھینچتے ہیں۔

      داعش کے جانے کے بعد یہاں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ یہاں مرکزی چشمہ تعمیر کیا گیا ہے۔ چشمے کے گرد محرابی ستون بنائے گئے ہیں۔ گول چکر کے اندر بینچ لگائے گئے ہیں جن پر لوگ بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ رات کے وقت پورا گول چکر مختلف رنگوں کی لیزر لائٹس سے جگمگاتا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: