شامی پناہ گزیں بچوں کے جنسی استحصال کے مرتکب ایک شخص کو 108 سال کی سزا

استنبول۔ ملک شام میں جاری جنگ سے جان بچاکر بھاگنے والے مہاجرین کی مشکلات ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔

Jun 05, 2016 01:40 PM IST | Updated on: Jun 05, 2016 01:40 PM IST
شامی پناہ گزیں بچوں کے جنسی استحصال کے مرتکب ایک شخص کو 108 سال کی سزا

فوٹو: العربیہ

استنبول۔ ملک شام میں جاری جنگ سے جان بچاکر بھاگنے والے مہاجرین کی مشکلات ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔ ایک طر ف جہاں انھیں اپنی زندگی کو خطرہ لاحق ہے وہیں بچوں اور عورتوں کے جنسی استحصال کی رپورٹیں بھی آرہی ہیں ۔ ترکی کی ایک مقامی عدالت نے شامی پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے درندہ صفت ایک مقامی شخص کو کم سے کم 8 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے جرم میں 108 سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق مجرم نے پناہ گزیں بچوں کی غربت اور ان کی دیگر مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں جنسی استحصال کے لیے بلیک میل کیا اور انہیں جنسی ہوسناکی پرآمادہ کرنے کے لیےنصف سے پونے دو ڈالر کے مساوی رقم کے عوض انہیں جنسی عمل پر آمادہ کرنے کی مذموم کوشش کی ۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال کا گھناؤنا واقعہ شام اور ترکی کی سرحد پر قائم ’’نصیب‘‘پناہ گزیں کیمپ میں پیش آیا۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے بچوں کے والدین نے حکام سے اس کی شکایت کی۔ مقامی میڈیا اور سماجی کارکنوں کا خیال ہے کہ سزا پانے والے درندہ صفت ترک شخص نے کم سے کم 30 بچوں کو جنسی زیادتی کے لئے بلیک میل کیا ہے مگران میں سے صرف آٹھ بچوں کے والدین نے شکایت درج کرائی جب کہ دوسرے لوگ کسی وجہ سے خاموش ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے سرگرم ایجنسی کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث شخص کو عبرت ناک سزا دینے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ آئندہ کوئی شخص اس طرح کی درندگی کی جرات نہ کر سکے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ترکی میں کسی شخص کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے میں گرفتارکیا گیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں متعدد مرتبہ متنبہ کر چکی ہیں کہ شامی پناہ گزیں بچوں اور خواتین کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں مقیم 27 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں 2 لاکھ 50 ہزار افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ نصیب پناہ گزین کیمپ میں مقیم شامی پناہ گزینوں کی تعداد 11 ہزار بتائی جاتی ہے۔

Loading...

Loading...