உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان افغانیوں کو جانے کی اجازت دینے پر رضامند، 90 سے زیادہ ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا

    امریکہ اور کئی اہم یوروپی ممالک سمیت 90 سے زیادہ ممالک نے طالبان (Taliban) کی طرف سے غیرملکی اور افغان شہریوں (Afghan Citizens) کو نکالنے کے لئے کرائی گئی یقین دہانی پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

    امریکہ اور کئی اہم یوروپی ممالک سمیت 90 سے زیادہ ممالک نے طالبان (Taliban) کی طرف سے غیرملکی اور افغان شہریوں (Afghan Citizens) کو نکالنے کے لئے کرائی گئی یقین دہانی پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

    امریکہ اور کئی اہم یوروپی ممالک سمیت 90 سے زیادہ ممالک نے طالبان (Taliban) کی طرف سے غیرملکی اور افغان شہریوں (Afghan Citizens) کو نکالنے کے لئے کرائی گئی یقین دہانی پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

    • Share this:
      کابل: امریکہ اور کئی اہم یوروپی ممالک سمیت 90 سے زیادہ ممالک نے طالبان (Taliban) کی طرف سے غیرملکی اور افغان شہریوں (Afghan Citizens) کو نکالنے کے لئے کرائی گئی یقین دہانی پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں ان سبھی ممالک نے بتایا کہ انہیں طالبان کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سبھی ممالک شہریوں اور کسی بھی افغان شہری کو اپنے ممالک سے اجازت کے ساتھ محفوظ طریقے سے افغانستان سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

      مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سبھی یہ یقینی بنانے کے لئے پابند عہد ہیں کہ ہمارے شہری، باشندے، ملازم، افغانی جنہوں نے ہمارے ساتھ کام کیا ہے اور جو خطرے میں ہیں، وہ افغانستان کے باہر کے منزلوں تک آزادانہ سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کہا کہ ہم نامزد افغانیوں کو سفری دستاویز جاری کرنا جاری رکھیں گے اور ہمیں طالبان سے مکمل امید اور عزم ہے کہ وہ ہمارے متعلقہ ممالک کا سفر کرسکتے ہیں۔

      بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں آسٹریلیا، کناڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، سوئٹزرلینڈ، یوکرین، برطانیہ شامل ہیں۔ یہ مشترکہ بیان طالبان کی طرف سے عوامی بیانات کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا۔ 90 سے زیادہ ممالک کا یہ بیان طالبان کے سیاسی دفتر کی طرف سے اعلائے جانے کے ایک دن بعد آیا ہے، جس میں اس نے کہا کہ ملک سے باہر جانے کی خواہش رکھنے والے افغان شہریوں کو قابل احترام طریقے سے ایسا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

      کہا کہ جو افغانی بیرون ممالک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ ملک میں تجارتی پروازوں کی بحالی کے بعد پاسپورٹ اور ویزا جیسے قانونی دستاویز لے کر قابل احترام طریقے سے اور من کی خاموشی کے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں۔ اس درمیان طالبان کے ترجمان مجاہد ذبیح اللہ نے اتوار کو کہا کہ شدت پسند گروپ امریکی اہلکاروں کی واپسی کی 31 اگست کی متعینہ میعاد کے بعد بھی لوگوں کو کابل چھوڑنے کی اجازت دے گا۔ جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے، مقامی افغانیوں سمیت ہزاروں لوگ طالبان کے اقتدار سے بھاگنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: