உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان اور پنجشیرباغیوں میں جنگ ہوئی خونی، دونوں طرف سے ہلاکت کی خبریں

    طالبان اور پنجشیر باغیوں میں اب خونی ہوئی جنگ، دونوں طرف سے موت کی خبریں

    طالبان اور پنجشیر باغیوں میں اب خونی ہوئی جنگ، دونوں طرف سے موت کی خبریں

    طالبان (Taliban) نہیں چاہتا کہ افغانستان کے کسی بھی کونے میں اس کا اقتدار نہ ہو، لیکن اس کی راہ پنجشیر (Panjshir) سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ملک میں طالبان کے اقتدار کے خلاف مضبوط مخالفت کرنے والے امراللہ صالح اور احمد مسعود کی جوڑی نے اپنا قلعہ ناقابل تسخیر بناکر رکھا ہوا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: طالبان (Taliban) نہیں چاہتا کہ افغانستان کے کسی بھی کونے میں اس کا اقتدار نہ ہو، لیکن اس کی راہ پنجشیر (Panjshir) سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ملک میں طالبان کے اقتدار کے خلاف مضبوط مخالفت کرنے والے امراللہ صالح اور احمد مسعود کی جوڑی نے اپنا قلعہ ناقابل تسخیر بناکر رکھا ہوا ہے۔ حالانکہ جنگ تیز ہوگئی ہے، جس میں دونوں ہی فریق کے جنگجووں کی موت کی خبریں ہیں۔ پنجشیرکو تاجکستان کی طرف سے بالواسطہ حمایت ملنے کی بھی خبریں ہیں۔ پنجشیر تاجک نژاد کے لوگوں کا گڑھ ہے۔

      پنجشیر کے باغیوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ جنگ میں ان کی طرف سے واحد خان نام کے جنجگو کی موت ہوئی ہے۔ واحد خان کی موت شوٹل علاقے میں ہوئی ہے، جو پنجشیر کے کئی انٹری پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ طالبان کی طرف سے دکھایا گیا ہے کہ اس کی شوٹل میں انٹری ہوچکی ہے، لیکن باغیوں نے واضح کر دیا ہے کہ پوری پنجشیر وادی پر ان کا قبضہ برقرار ہے۔

      بات چیت ناکام ہونے پر کیا بولا طالبان

      اس سے قبل بدھ کو باغیوں کے ساتھ بات چیت ناکام ہونے پر طالبان نے کہا تھا کہ پنجشیر کے چاروں طرف سے تیاریاں جاری ہیں۔ طالبان نے باغیوں کو مقامی گروپ بتایا ہے کہ امراللہ صالح نے کہا ہے کہ ’ہم پورے ملک ہیں‘۔ افغانستان کے سابق نائب صدر اور موجودہ کارکرگزار صدر امراللہ صالح نے طالبان پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ہتھیار اور سخت رخ لوگوں کے غصے کے آگے برباد ہوگا۔

      سہیل شاہین نے کی ہے تنقید

      امراللہ صالح نے کہا، ’معیشت کی خستہ حالی اور خدمات کی غیر فراہمی جلد ہی لوگوں کو تباہ کردے گی اور آپ کےہ تھیار اور سخت طریقہ لوگوں کی بغاوت اور غصے کے خلاف متاثر نہیں ہوں گے‘۔ امراللہ صالح نے کہا، ’گزشتہ کچھ سال میں تسلط کی ساخت کا مطلب استحکام نہیں ہے۔ استحکام اور تسلسل ایک مربوط نظام ہے، جس سے آپ کا گروپ دور ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: