உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں طالبان حکومت بنانے میں مصروف، نامزد کئے گئے وزیر خزانہ، وزیرداخلہ اور وزیر تعلیم 

    Afghanistan Taliban Crisis: افغان نیوز کے مطابق، طالبان نے شیخ اللہ کو کارگزار تعلیمی سربراہ، عبدالباقی کو اعلیٰ تعلیم کا کارکرگزار سربراہ، صدر ابراہیم کو کارگزار وزیر داخلہ، گل آغا کو وزیر خزانہ، ملا شیرین کو کابل کا گورنر، حمد اللہ نعمانی کو کابل کا میئر اور نجیب اللہ کو خفیہ سربراہ نامزد کیا ہے۔

    Afghanistan Taliban Crisis: افغان نیوز کے مطابق، طالبان نے شیخ اللہ کو کارگزار تعلیمی سربراہ، عبدالباقی کو اعلیٰ تعلیم کا کارکرگزار سربراہ، صدر ابراہیم کو کارگزار وزیر داخلہ، گل آغا کو وزیر خزانہ، ملا شیرین کو کابل کا گورنر، حمد اللہ نعمانی کو کابل کا میئر اور نجیب اللہ کو خفیہ سربراہ نامزد کیا ہے۔

    Afghanistan Taliban Crisis: افغان نیوز کے مطابق، طالبان نے شیخ اللہ کو کارگزار تعلیمی سربراہ، عبدالباقی کو اعلیٰ تعلیم کا کارکرگزار سربراہ، صدر ابراہیم کو کارگزار وزیر داخلہ، گل آغا کو وزیر خزانہ، ملا شیرین کو کابل کا گورنر، حمد اللہ نعمانی کو کابل کا میئر اور نجیب اللہ کو خفیہ سربراہ نامزد کیا ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان (Taliban) کی ایک طرف پنجشیر میں ناردن الائنس سے لڑائی جاری ہے۔ دوسری طرف طالبان اپنی حکومت کا خاکہ بھی تیار کر رہا ہے۔ طالبان نے منگل کو کارگزار وزیر خزانہ، وزیر تعلیم اور وزیر داخلہ کے نام فائنل کر لئے گئے ہیں۔   Pajhwok افغان نیوز کے مطابق، طالبان نے شیخ اللہ کو کارگزار تعلیمی سربراہ، عبدالباقی کو اعلیٰ تعلیم کا کارکرگزار سربراہ، صدر ابراہیم کو کارگزار وزیر داخلہ، گل آغا کو وزیر خزانہ، ملا شیرین کو کابل کا گورنر، حمد اللہ نعمانی کو کابل کا میئر اور نجیب اللہ کو خفیہ سربراہ نامزد کیا ہے۔

      اس سے پہلے طالبان نے اپنے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد (Zabihullah Mujahid) کو تہذیب وثقافت اور وزیر اطلاعات کے طور پر نامزد کیا تھا۔ ذبیح اللہ مجاہد وہی ہیں، جنہوں نے ایک دن پہلے میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طالبان کی حکومت کیسی ہوگی۔ طالبان نے پیر کو کہا تھا کہ جب تک کابل میں ایک بھی امریکی فوجی رہیں گے، طالبان حکومت کی تشکیل نہیں کرے گا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لئے متعینہ 31 اگست کی مدت کو بڑھا سکتے ہیں۔

      امراللہ صالح کا دعویٰ- اندراب میں فوڈ سپلائی روک رہا ہے طالبان

      اس درمیان افغانستان کے کیئر ٹیکر امراللہ صالح نے شمالی بغلان صوبہ کی اندراب وادی میں سنگین ’انسانی صورتحال‘ کے بارے میں جانکاری دی ہے۔ امراللہ صالح نے کہا کہ طالبان نے یہاں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی ہے۔ طالبان کے جنجگووں نے کھانے پینے کی سپلائی روک دی ہے اور پٹرول - ڈیژل کے ٹینک کو جانے نہیں دے رہے ہیں۔ گزشتہ دن اندراب علاقے میں طالبان اور مزاحمتی طاقتوں کے درمیان تصادم کی اطلاع ملی تھی۔

      امراللہ صالح (Amrullah Saleh) نے ٹوئٹ کیا- ’طالبان نے اندراب وادی میں کھانے اور ایندھن کی سپلائی روک دی ہے۔ یہاں انسانوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہزاروں خواتین اور بچے پہاڑوں پر بھاگ گئے ہیں۔ گزشتہ دو دنوں سے طالبان بچوں اور بزرگوں کا اغوا کر رہے ہیں۔ اب بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ گھر کی تلاشی کرنے کے لئے بھی بچوں کو ڈھال بنایا جارہا ہے۔

      واضح رہے کہ پنجشیر میں ڈٹے افغانستان کے نائب صدر اور خود کو کارگزار صدر ڈکلیئر کرنے والے امراللہ صالح (Amrullah Saleh) آنجہانی وار لارڈ احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود طالبان کو سخت چیلنج دے رہے ہیں۔ امراللہ صالح نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگیں گے نہیں۔ انہوں نے طالبان کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ’ایک دن صرف اللہ ہی میری روح کو یہاں سے نکالیں گے، لیکن پھر بھی میرے باقیات اسی مٹی میں مل جائیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: