உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل ایئر پورٹ پر طالبان نے خواتین - بچوں پرکیا حملہ، خوفزدہ کرتی ہیں یہ تصاویر

    Afghanistan Taliban Crisis: لاس اینجلس ٹائمس کی رپورٹ مارکس ییم نے ٹوئٹر پر کچھ تصاویر ٹوئٹ کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    Afghanistan Taliban Crisis: لاس اینجلس ٹائمس کی رپورٹ مارکس ییم نے ٹوئٹر پر کچھ تصاویر ٹوئٹ کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    Afghanistan Taliban Crisis: لاس اینجلس ٹائمس کی رپورٹ مارکس ییم نے ٹوئٹر پر کچھ تصاویر ٹوئٹ کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے لوٹنے سے لوگ بے حد مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ طالبان نے منگل کو پریس کانفرنس کرکے دنیا کے سامنے خواتین کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 24 گھنٹے کے اندر طالبان اس سے منحرف ہوگیا۔ طالبان کے جنگجووں نے بدھ کو کابل ایئر پورٹ (Kabul Airport) پر خواتین اور بچوں پر حملے کئے۔

      کابل سے سامنے آئی تصاویر میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ طالبان نے ملک چھوڑنے کے ارادے سے ہوائی اڈے آنے والی خواتین اور بچوں پر نوک والے اور دھار دار ہتھیار سے حملہ کئے جانے کی خبر ہے۔ طالبان جنگجووں نے ایئر پورٹ سے بھیڑ کو واپس بھیجنے کے لئے فائرنگ بھی کی۔



      لاس اینجلس ٹائمس کی رپورٹ مارکس ییم نے ٹوئٹر پر کچھ تصاویر ٹوئٹ کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

      فاکس نیوز نے ایک ویڈیو جاری کرکے یہ دعویٰ کیا ہے کہ طالبان جنگجو کابل اور فوجی مقامات کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں اور سابق سرکاری ملازمین کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس دوران وہ کئی جگہ فائرنگ بھی کر رہے ہیں۔ چینل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے تخر صوبہ میں منگل کو ایک خاتون کو صرف اس لئے موت کے گھاٹ اتار دیا، کیونکہ وہ گھر سے باہر بغیر سر ڈھکے ہوئے نظر آئی تھیں۔

      طالبان نے منگل کو ہی خواتین کو شرائط کے ساتھ نوکری، پرائیویٹ سیکٹر اور دیگر روزگاروں میں کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ خواتین کام کاج کے لئے نکل سکتی ہیں، لیکن انہیں شریعت کے ضوابط پر مکمل عمل کرنا ہوگا، لیکن اس کے کچھ دیر بعد ہی طالبان نے افغانستان کے سرکاری ٹی وی سے خواتین اینکر کو ہٹا دیا اور اس کی جگہ پر طالبان ترجمان کو نیوز پڑھنے کا کام دے دیا۔ ایسے میں طالبان کے دو طرفہ چہرے سے سب خوفزدہ ہیں، لہٰذا افغانی کسی بھی طرح ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: