உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کے خلاف مظاہرہ کوریج کرنے پر طالبان نے صحافیوں کے ساتھ کی بربریت، تصویریں دیکھ کر اڑ جائیں گے ہوش

    کابل میں پاکستان کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں، وہیں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے افغان صحافیوں کو  سزا بھی دی گئی ہے۔

    کابل میں پاکستان کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں، وہیں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے افغان صحافیوں کو سزا بھی دی گئی ہے۔

    کابل میں پاکستان کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں، وہیں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے افغان صحافیوں کو سزا بھی دی گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل۔  پاکستان نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے کتنی مدد کی ہے اس سے دنیا واقف ہے۔ طالبان کو سچ دکھانا گنوارا نہیں تھا۔ اس لیے جب کہ کابل میں پاکستان کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں، وہیں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے افغان صحافیوں کو  سزا بھی دی گئی ہے۔

      کابل میں صحافیوں پر طالبان کا قہر ٹوٹا ہے۔ طالبان جنگجوؤں نے نہ صرف کئی صحافیوں کو گرفتار کیا بلکہ انہیں حراست میں لیکر تشدد اور شدید مار پیٹ بھی کی۔

      افغانستان کو کور کرنے والے نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر نے یہ تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے جو وائرل ہو رہی ہے۔ شریف حسن نے ٹویٹ کیا کہ کل کابل میں دو صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بری طرح مارا پیٹا گیا۔


      اسی دوران لاس اینجلس کے صحافی مارکس یام نے ٹویٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ دو افغان صحافی ، طالبان کے مظالم کا شکار ہونے والے ، اٹیلا ٹروز کے رپورٹر ہیں جن کے نام  نعمت نقدی اور تقی دریابی ہیں۔ خواتین کے مظاہروں کی کوریج کرتے ہوئے انہیں طالبان حکومت نے حراست میں لیا اور بے رحمی سے مارا پیٹا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں ایک ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے - صحافت کوئی جرم نہیں ہے۔

      وہیں اقوام متحدہ (یو این) نے جمعہ کو افغانستان میں پرامن احتجاج کرنے والے مظاہرین کو طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تمام خاندانوں کو مناسب مقدار میں خوراک نہیں مل رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینا شامداسنی نے کہا ’’ہم طالبان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والوں اور احتجاج کو کوریج کرنے والے صحافیوں پر طاقت کا استعمال اور من مانے طریقے سے انہیں حراست میں لینا فوری طور پر بند کرے‘‘۔


      ترجمان نے بتایا کہ اگست میں طالبان مسلح جنگجو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولہ بارود اور کوڑوں کا استعمال کر رہے تھے جس سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ طالبان نے 1996 سے 2001 کے مقابلے میں اب زیادہ اعتدال پسند حکومت کا وعدہ کیا تھا، لیکن انہوں نے واضح اشارے دیے ہیں کہ وہ احتجاج کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس ہفتے کے شروع میں مسلح طالبان نے ہرات سمیت افغانستان کے شہروں میں سینکڑوں مظاہرین کو منتشر کیا۔ اس کارروائی میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: