உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان سے دل دہلا دینے والی خبر! طالبان نے خاتون کھلاڑی کا سر کیا قلم، سامنے آیا خون سے لت پت کٹا سر اور۔۔۔

    مہجبین حکیمی کلب کی اسٹار کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں۔ کچھ دن پہلے ان کے کٹے ہوئے سر اور خون میں لت پت لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئیں۔

    مہجبین حکیمی کلب کی اسٹار کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں۔ کچھ دن پہلے ان کے کٹے ہوئے سر اور خون میں لت پت لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئیں۔

    مہجبین حکیمی کلب کی اسٹار کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں۔ کچھ دن پہلے ان کے کٹے ہوئے سر اور خون میں لت پت لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئیں۔

    • Share this:
      کابل۔ افغانستان (Afghanistan) سے دل دہلا دینے والی خبر سامنے آرہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ملک کی جونیئر خاتون قومی والی بال (junior women's national volleyball team) ٹیم کی کھلاڑی کا سر قلم کر دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں ٹیم کی کوچ سریہ افضلی ( تبدیل کیا گیا نام) نے بتایا کہ مہجبین حکیمی (Mahjabin Hakimi) نامی ایک خاتون کھلاڑی کو اکتوبر میں طالبان نے قتل کر دیا تھا لیکن اس ہولناک قتل عام کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چلا کیونکہ باغیوں نے اس کے خاندان کو دھمکی دی تھی کہ وہ اس کا انکشاف نہ کریں۔

      مہجبین اشرف غنی حکومت کے خاتمے سے قبل کابل میونسپل کارپوریشن والی بال کلب کے لیے کھیلتی تھیں۔ وہ کلب کی اسٹار کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں۔ کچھ دن پہلے ان کے کٹے ہوئے سر اور خون میں لت پت لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئیں۔ افغان خواتین کی قومی والی بال ٹیم کے کوچ نے کہا کہ اگست میں طالبان کا مکمل قبضہ کرنے سے پہلے ٹیم کی صرف دو کھلاڑی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ مہجبین حکیمی ان کئی دیگر بدنصیب کھلاڑیوں میں شامل تھیں جو فرار ہونے میں ناکام رہیں۔

      خواتین کھلاڑیوں کو نشانہ بنا رہا ہے طالبان
      افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے خواتین کھلاڑیوں کی شناخت کرنے اور انہیں نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ سریہ افضلی نے دعویٰ کیا کہ عسکریت پسندوں نے افغان خواتین والی بال ٹیم   Volleyball Match کے ارکان کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ وہ ایسے کھلاڑیوں کی تلاش میں ہیں جنہوں نے غیر ملکی اور ملکی مقابلوں میں حصہ لیا ہو۔ سریہ افضلی نے فارسی انڈیپنڈنٹ کو بتایا ، "والی بال ٹیم کے تمام کھلاڑیوں اور باقی خواتین ایتھلیٹس کی حالت خراب ہے۔ وہ خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر کوئی بھاگنے اور زیر زمین رہنے پر مجبور ہے۔"
      Published by:Sana Naeem
      First published: