اپنا ضلع منتخب کریں۔

    افغانستان پر قبضے کے بعد پہلی مرتبہ طالبان نے دی سرعام پھانسی، قتل کے ملزم کو سزا

    افغانستان پر قبضے کے بعد پہلی مرتبہ طالبان نے دی سرعام پھانسی، قتل کے ملزم کو سزا

    افغانستان پر قبضے کے بعد پہلی مرتبہ طالبان نے دی سرعام پھانسی، قتل کے ملزم کو سزا

    مارے گئے شخص کی پہچان ہیرات صوبے کے تاج میر کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے پانچ سال پہلے ایک دیگر شخص کا قتل کرنے اور اس کی موٹر سائیکل اور موبائل فون چوری کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Kabul
    • Share this:
      طالبان عہدیداروں نے بدھ کو ایک اور شخص کے قتل کے ملزم افغانستانی شہری کو سرعام پھانسی دے دی۔ طالبان ترجمان نے بتایا کہ پچھلے سال افغانستان پر سابق باغیوں کے قبضے کے بعد سے یہ پہلی سرعام پھانسی ہوئی ہے۔ مغربی فراح صوبے میں سینکڑوں شہریوں اور طالبان کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کے سامنے قصوروار کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔

      پھانسی کے اس اعلان کے ساتھ افغانستان کے نئے حکمرانوں نے اگست 2021 میں ملک پر قبضہ کرنے کے بعد سے لاگو کیے گئے سخت پالیسیوں کو جاری رکھنے اور اسلامی قانون (شرعیہ) پر جمے رہنے کے ارادے ظاہر کردئیے ہیں۔ طالبان حکومت کے اعلیٰ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق، مغربی فراح صوبے میں جس وقت ملزم کو پھانسی دی گئی اس وقت وہاں سینکڑوں شہری موجود تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      طالبان نے کیا پاکستانی فوجی کا سے قتل، پھر پیڑ پر لٹکائی لاش، لوگوں کو دی کھلے عام دھمکی

      یہ بھی پڑھیں:
      امریکی عدالت میں جمال خاشقجی قتل کیس پر سماعت، محمد بن سلمان کے خلاف مقدمہ خارج

      چین میں گھریلو قرنطینہ کی اجازت، عارضی لاک ڈاؤن کے خاتمے کا حکم، لیکن...

      ملک کی تین سپریم عدالتوں اور طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد مجاہد نے کہا کہ سزا دینے کے فیصلے میں بہت احتیاط برتی گئی۔ مارے گئے شخص کی پہچان ہیرات صوبے کے تاج میر کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے پانچ سال پہلے ایک دیگر شخص کا قتل کرنے اور اس کی موٹر سائیکل اور موبائل فون چوری کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ متاثرہ کی پہچان پڑوسی فراح صوبے کے رہنے والے مصطفیٰ کے طور پر ہوئی ہے۔ ترجمان مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے جرم کا الزام لگانے کے بعد طالبان سیکورٹی فورس نے تاج میر کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس نے قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: