உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان : طالبان کا دعوی ، پنجشیر کے چار اضلاع پر ہوا قبضہ ، مزاحمتی فورسیز نے کیا انکار

    افغانستان : طالبان کا دعوی ، پنجشیر کے چار اضلاع پر ہوا قبضہ ، مزاحمتی فورسیز نے کیا انکار

    افغانستان : طالبان کا دعوی ، پنجشیر کے چار اضلاع پر ہوا قبضہ ، مزاحمتی فورسیز نے کیا انکار

    میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان نے دعوی کیا ہے کہ اس نے پنجشیر وادی کے چار اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے ، لیکن اس کے اس دعوی کو مزاحمتی فورسیز نے خارج کردیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : امریکی فوج کے انخلا کی واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی طالبان نے تیزی سے افغانستان کے اضلاع پر قبضہ کرنا شروع کردیا تھا ۔ راجدھانی کابل سمیت طالبان کو پورے ملک پر قبضہ کئے ہوئے 20 سے زیادہ دن ہوگئے ہیں ۔ افغانستان میں صرف پنچشیر وادی ہی ایک ایسا علاقہ بچا ہوا ہے جو طالبان کے قبضہ سے دور ہے ۔ طالبان پنجشیر وادی پر قبضہ کرنے کیلئے مخالفین سے مسلسل لڑائی لڑ رہا ہے ۔ اس درمیان ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان نے دعوی کیا ہے کہ اس نے پنجشیر وادی کے چار اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے ، لیکن اس کے اس دعوی کو مزاحمتی فورسیز نے خارج کردیا ہے ۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے پنجشیر میں جدوجہد کے بعد چار اضلاع پر قبضہ کا دعوی کیا ہے ۔ حالانکہ مزاحمتی فورسیز نے اس دعوی کو خارج کردیا ہے ۔ مزاحمتی فورسیز نے کہا ہے کہ جدوجہد میں طالبانی جنجگو کو پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ طالبان نے کہا کہ اب چار اضلاع کے بعد وہ انابہ ضلع کو قبضہ میں لینے کیلئے لڑائی جاری رکھی ہے ۔

      پنجشیر میں سبھی طرح کی ٹیلی مواصلات خدمات روک دی گئی ہیں ، جس کی وجہ سے فریقین کی طرف سے کئے جارہے دعوے کے بارے میں کسی بھی طرح کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔ بتادیں کہ پنجشیر وادی ہندوکش پہاڑ سے کابل سے شمار میں 90 میل کی دوری پر واقع ہے ۔

      20 سال پہلے بھی پنجشیر وادی طالبان کی حکومت سے آزاد تھی ۔ طالبان کبھی بھی اس پر اپنا قبضہ نہیں کرسکا ہے ۔ لیکن وہ پہلے کی بات تھی اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر کب تک پنجشیر کے جنجگو طالبان کو جواب دے پاتے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: