உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں اسلامی قانون نافذ؟ پہلی بار کوڑے مارنے کی تصدیق، ’سزا معاشرہ کی سدھار کا موثر ذریعہ‘

    یہ طالبان کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔

    یہ طالبان کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔

    طالبان کے چیف ترجمان کے مطابق چوروں، اغوا کاروں اور بغاوت کرنے والوں کی فائلوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ وہ فائلیں جن میں حدود اور قصاص کی تمام شرعی شرائط پوری کی گئی ہیں، ان کا نفاذ سب پر واجب ہے۔ حدود سے مراد ایسے جرائم ہیں

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Afghanistan
    • Share this:
      ایک صوبائی اہلکار نے بتایا کہ تین خواتین اور 11 مردوں کو بدھ کے روز ایک افغان عدالت کے حکم پر چوری اور اخلاقی جرائم کا مجرم پایا گیا، جس کے بعد انھیں کوڑے مارے گئے۔ طالبان کے سپریم لیڈر کی جانب سے رواں ماہ ججوں کو اسلامی قانون یا شریعت کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا گیا، اس دوران یہ کہا گیا کہ بعض جرائم کے لیے جسمانی سزا لازمی قرار دیے جانے کے بعد کوڑے مارنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

      صوبہ لوگر کے انفارمیشن اینڈ کلچر کے سربراہ قاضی رفیع اللہ صمیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ کوڑے سرعام نہیں لگائے گئے۔ انھوں نے کہا کہ چودہ افراد کو صوابدیدی سزا دی گئی، جن میں 11 مرد اور تین خواتین تھیں۔ کسی کے لیے زیادہ سے زیادہ کوڑوں کی تعداد 39 ہیں۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ (Hibatullah Akhundzada) نے رواں ماہ ججوں کو حکم دیا کہ وہ اسلامی قانون کے ان پہلوؤں کو مکمل طور پر نافذ کریں جن میں سرعام پھانسی، سنگسار، کوڑے اور چوروں کے اعضاء کاٹنا شامل ہیں۔

      طالبان کے چیف ترجمان کے مطابق چوروں، اغوا کاروں اور بغاوت کرنے والوں کی فائلوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ وہ فائلیں جن میں حدود اور قصاص کی تمام شرعی شرائط پوری کی گئی ہیں، ان کا نفاذ سب پر واجب ہے۔ حدود سے مراد ایسے جرائم ہیں جن کے لیے جسمانی سزا لازمی ہے، جبکہ قصاص کا ترجمہ قسم کے بدلے کے طور پر ہوتا ہے۔

      سوشل میڈیا کئی مہینوں سے طالبان کی ویڈیوز اور تصاویر سے بھرا ہوا ہے جو مختلف جرائم کے الزام میں لوگوں کو کوڑے مارنے کا خلاصہ کر رہے ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ حکام نے عدالت کی طرف سے دی گئی اس طرح کی سزا کی تصدیق کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      2001 کے اواخر میں ختم ہونے والے اپنے پہلے دور حکومت میں طالبان نے باقاعدگی اسلامی سزاؤں کا اعلان کیا تھا۔ جن میں نیشنل اسٹیڈیم میں کوڑے اور پھانسی دینا بھی شامل تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: