اپنا ضلع منتخب کریں۔

    طالبان نے برقع نہ پہننے پر طالبات کے کیمپس میں داخلے سے کیا انکار، آخر کیا ہے معاملہ؟

    15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا۔

    15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا۔

    یہ واقعہ شمال مشرقی افغانستان کی بدخشاں یونیورسٹی میں پیش آیا۔ خامہ پریس نے رپورٹ کیا کہ افغان لڑکیوں کو داخلی دروازے کے باہر رہنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ طالبات طالبان کے پسندیدہ لباس کے اصولوں پر عمل نہیں کر رہی تھیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaAfghanistanAfghanistanAfghanistanAfghanistan
    • Share this:
      افغان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف طالبان کا کریک ڈاؤن جاری ہے کیونکہ طالبان کے ایک گارڈ نے اتوار کے روز طالبات کو برقعہ نہ پہننے پر کیمپس میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ یہ واقعہ شمال مشرقی افغانستان کی بدخشاں یونیورسٹی میں پیش آیا۔ خامہ پریس نے رپورٹ کیا کہ افغان لڑکیوں کو داخلی دروازے کے باہر رہنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ طالبات طالبان کے پسندیدہ لباس کے اصولوں پر عمل نہیں کر رہی تھیں۔

      ہندوستان ٹائمز کے مطابق خواتین کی نقل و حرکت، تقریر، اظہار خیال، کام کے مواقع اور لباس کی آزادی پر طالبان کی پابندی صرف یہیں ختم نہیں ہوتی۔ طالبان نے جنگ زدہ افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے اسکول جانے سے بھی روک دیا ہے۔ بدخشاں یونیورسٹی کے صدر نقیب اللہ قاضی زادہ نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ غیر قانونی سلوک کا جائزہ لیا جائے گا اور طالبہ کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

      15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا۔ انہوں نے فوری طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو واپس لینا شروع کر دیا۔ ستمبر کے اوائل تک مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں خواتین کی قیادت میں مظاہرے ہو رہے تھے اور تیزی سے متعدد صوبوں میں پھیل گئے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان کا ردعمل شروع سے ہی وحشیانہ تھا، مظاہرین کو مارا پیٹا، احتجاج میں خلل ڈالنا اور مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو حراست میں کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال اگست میں افغان حکومت کے خاتمے اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔ اگرچہ ملک میں لڑائی ختم ہو چکی ہے، لیکن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: