உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان حکومت کا نیا فرمان،غیر اسلامی سرگرمیوں میں ملوث 3 ہزار ارکان کو کردیا برطرف

    طالبان نے تین ہزار ارکان کو کردیا برطرف۔(علامتی تصویر)

    طالبان نے تین ہزار ارکان کو کردیا برطرف۔(علامتی تصویر)

    اب تک 2840 ارکان کو برخاست کیا جاچکا ہے۔ لطیف اللہ حکیمی نے کہا کہ، یہ لوگ بدعنوانی، ڈرگس اور لوگوں کی نجی زندگی میں دخل اندازی کی کوشش کررہے تھے۔ اس کے علاوہ اُن کے داعش کے ساتھ بھی روابط تھے۔

    • Share this:
      کابل: طالبان(Taliban) نے اپنی قدامت پسند اسلامی آندولن سے جڑی توہین آمیز سرگرمیوں میں شامل ہونے کے الزام میں تقریباً 3ہزار ارکان کو برطرف کردیا ہے۔ افغانستان (Afghanistan) میں اقتدار میں آنے کے بعد شروع کی گئی جامع جانچ کی کارروائی کے تحت طالبان نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ امریکہ سے 20 سالوں تک جنگ لڑنے کے بعد پچھلے اگست میں یو ایس اور ناٹو فوج کے واپس جانے کے بعد طالبان نے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ جما لیا تھا۔ طالبان حکومت نے اُن ارکان کی پہچان کرنے کے لئے ایک کمیشن بنایا تھا جو آندولن کے اصولوں کی خلاف ورزی کررہے تھے۔

      وزارت دفاع میں پینل کے سربراہ لطیف اللہ حکیمی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ، یہ لوگ اسلامی امارات کو بدنام کررہے تھے۔ اس لئے اسے ازسرنو غور کرکے اُنہیں برطرف کردیا گیا تا کہ مستقبل میں ایک بہتر فوج اور پولیس فورس کی تعمیر کی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 2840 ارکان کو برخاست کیا جاچکا ہے۔ لطیف اللہ حکیمی نے کہا کہ، یہ لوگ بدعنوانی، ڈرگس اور لوگوں کی نجی زندگی میں دخل اندازی کی کوشش کررہے تھے۔ اس کے علاوہ اُن کے داعش کے ساتھ بھی روابط تھے۔

      آندولن کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ایک معافی کے حکم کے باوجود طالبان جنگجووں پر سابق سیکورٹی فورس کے ارکان کی ایکسٹرا جیوڈیشیل کلنگ کا الزام لگا ہے۔ جہادی گروپ کی علاقائی تنظیم، قدامت پسند اسلامی انتظامیہ کے لئے ایک بڑی سیکورٹی چیلنج کے طور پر اُبھری ہے جو اکثر کابل اور دیگر شہروں میں بندوق اور بم حملوں میں عہدیداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

      حکیمی نے کہا کہ جن ارکان کو برطرف کیا گیا ہے وہ 14 صوبوں سے ہیں اور دیگر صوبوں سے بھی ایسے لوگوں کو باہر نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: