உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کے نئے ویڈیو نے بڑھایا خوف، گزشتہ حکومت کے وفادار افسران کا کر رہا ہے برا حال، حزب اللہ خان نے شیئر کیا ویڈیو

    صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ، "پچھلی حکومت کے اہلکاروں اور افغان فوجیوں کو پکڑنے کے لیے طالبان کا گھر گھر آپریشن پورے افغانستان میں جاری ہے۔"

    صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ، "پچھلی حکومت کے اہلکاروں اور افغان فوجیوں کو پکڑنے کے لیے طالبان کا گھر گھر آپریشن پورے افغانستان میں جاری ہے۔"

    صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ، "پچھلی حکومت کے اہلکاروں اور افغان فوجیوں کو پکڑنے کے لیے طالبان کا گھر گھر آپریشن پورے افغانستان میں جاری ہے۔"

    • Share this:
      کابل۔ افغانستان میں طالبان (Taliban in Afghanisatn)  کے قبضے کے بعد عام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بدترین حال ان سرکاری افسران اور ملازمین کا ہے ، جو ملک کی اشرف غنی حکومت کے وفادار تھے۔ افغانستان کے آزاد صحافی حزب اللہ خان  (Hizbullah Khan)  نے ایک ویڈیو ٹویٹ کیا ہے جس میں طالبان جنگجو گھر گھر جاکر سرکاری اہلکاروں اور افغان فوجیوں کو پکڑ رہے ہیں۔ طالبان (Taliban)  کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان  (Afghanistan)  کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

      کیا ہے ویڈیو میں؟
      صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کرکے لکھا ہے کہ، "پچھلی حکومت کے اہلکاروں اور افغان فوجیوں کو پکڑنے کے لیے طالبان کا گھر گھر آپریشن پورے افغانستان میں جاری ہے۔" اس ویڈیو میں کچھ مسلح طالبان جنگجو کھلی گاڑی میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں دو افراد کو ہاتھوں سے بندھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ گاڑی کے کے پیچھے ایک  سفید رنگ کی گاڑی ہے جو کھلی گاڑی کے پیچھے چل رہی ہے۔


      وہیں اس سے پہلے حزب اللہ خان نے یہ ویڈیو شیئر کئے تھے۔ دراصل طالبان نے شرعی قوانین کے تحت لوگوں کو وحشیانہ سزا دینا بھی شروع کر دی ہے۔ تازہ ترین تصویر ہیرات کی ہے  جہاں ایک شخص کو طالبان نے قتل کرنے کے بعد سرعام پھانسی پر لٹکا دیا۔

      اس واقعے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔ اسے افغان صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 'طالبان نے شہروں میں سرعام سزائے موت دینا شروع کر دی ہے۔ یہ ہیرات کا معاملہ ہے۔ (ویڈیو دیکھئیے)



      کابل میں بچے بیچ رہے ہیں کنبے۔۔
      افغانستان کے عوام کو ایک ماہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ جی ڈی پی بری حالت میں ہے۔  ملک کے اثاثے پہلے ہی غیر ملکی اداروں اور امریکہ نے منجمد کر رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ پہلے ہی افغانستان میں بھوک مری سے لوگوں کی موت کا اعلان کر چکا ہے۔ ایسے میں کابل میں غریب خاندان اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔



      ویڈیو میں کیا ہے؟
      یہ ویڈیو افغان صحافی حزب اللہ خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ، افغانستان کا یہ افسوسناک منظر، لوگ غربت کی وجہ سے اب اپنے بچے بیچنے کو مجبور ہیں۔ اس میں ایک شخص اپنی گود میں بچے کو پکڑ رہا ہے اور دوسرے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ پکڑ رہا ہے۔ وہ پختون میں کچھ بڑبڑا کر رہا ہے۔ اس دوران ایک عورت زمین پر بیٹھی نظر آرہی ہے جو برقعے میں ہے۔ وہ شاید اس آدمی کی بیوی ہے۔ ایک آدمی اپنی گود کا بچہ اپنی بیوی کو دیتا ہے۔

      کون ہے حزب اللہ خان؟
      حزب اللہ خان افغانستان کے سینئر صحافی ہیں۔ ان کے عالمی اخبارات جیسے یروشلم پوسٹ ، دی انڈیپنڈنٹ ، دی گلوب پوسٹ ، دی ڈپلومیٹ میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔ وہ افغانستان کے تازہ ترین حالات پر مسلسل دنیا کے تمام بڑے اخبارات کو رپورٹس بھیج رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: