உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے کہا- اشرف غنی اور امراللہ صالح کو معاف کردیا، لوٹ سکتے ہیں افغانستان

    15 اگست کو کابل چھوڑنے کے بعد اشرف غنی (Ashraf Ghani) اس وقت دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ امراللہ صالح نے افغانستان کی پنجشیر وادی میں اپنا گڑھ بنایا ہے۔ اس درمیان طالبان (Taliban) نے افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی (Ashraf Ghani) اور خود کو ’کیئر ٹیکر‘ صدر ہونے کا اعلان کرنے والے امراللہ صالح (Amrulla Saleh) کو معافی دے دی ہے۔

    15 اگست کو کابل چھوڑنے کے بعد اشرف غنی (Ashraf Ghani) اس وقت دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ امراللہ صالح نے افغانستان کی پنجشیر وادی میں اپنا گڑھ بنایا ہے۔ اس درمیان طالبان (Taliban) نے افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی (Ashraf Ghani) اور خود کو ’کیئر ٹیکر‘ صدر ہونے کا اعلان کرنے والے امراللہ صالح (Amrulla Saleh) کو معافی دے دی ہے۔

    15 اگست کو کابل چھوڑنے کے بعد اشرف غنی (Ashraf Ghani) اس وقت دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ امراللہ صالح نے افغانستان کی پنجشیر وادی میں اپنا گڑھ بنایا ہے۔ اس درمیان طالبان (Taliban) نے افغانستان کے مفرور صدر اشرف غنی (Ashraf Ghani) اور خود کو ’کیئر ٹیکر‘ صدر ہونے کا اعلان کرنے والے امراللہ صالح (Amrulla Saleh) کو معافی دے دی ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) پر قبضے کے بعد طالبان (Taliban) کی طاقت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ , طالبان کے سینئر لیڈر خلیل الرحمن حقانی نے جیو نیوز سے کہا ہے کہ طالبان اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمداللہ محب کو معاف کرتا ہے۔ طالبان اور تینوں کے درمیان دشمنی صرف عقائد کی بنیاد پر تھی۔ اشرف غنی اور امراللہ صالح اگر چاہیں تو افغانستان لوٹ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طالبان نے مسلم ممالک سے میل ملاپ کی اپیل بھی جاری کی ہے۔

      15 اگست کو کابل چھوڑنے کے بعد اشرف غنی اس وقت دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ امراللہ صالح نے افغانستان کی پنجشیر وادی میں اپنا گڑھ بنایا ہے۔ پنجشیر وادی سے باغی طالبان کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

      پاکستان کے جیو نیوز کو دیئے انٹرویو میں طالبان کے لیڈر خلیل الرحمن حقانی نے کہا، ’ہم نے اشرف غنی، امراللہ صالح اور حمد اللہ محب کو معاف کردیا ہے۔ ان تینوں سے ان کی دشمنی صرف مذہبی بنیاد پر تھی‘۔ حقانی کو امریکہ نے ایک عالمی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، جس پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔ حقانی نے کہا، ’ہم نے اپنی طرف سے سب کو معاف کردیا ہے۔ پھر چاہے وہ لوگ ہوں، جنہوں نے ہمارے خلاف جنگ لڑا تھا یا پھر عام شہری ہوں۔ لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں‘۔

      دشمن کر رہے ہیں غلط تشہیر

      طالبان لیڈر خلیل الرحمن حقانی نے کہا کہ دشمن یہ غلط تشہیر کر رہے ہیں کہ طالبان ان سے بدلہ لیں گے۔ انہوں نے کہا، ’تاجک، بلوچ، ہزارا اور پشتون سبھی ہمارے بھائی ہیں۔ چونکہ سبھی افغان ہمارے بھائی ہیں، اس لئے وہ ملک لوٹ سکتے ہیں‘۔

      نظام بدلنا تھا واحد مقصد

      طالبان کے لیڈر خلیل الرحمن حقانی نے کہس کہ ہماری دشمنی کی واحد وجہ سسٹم کو بدلنے کو لے کر تھی۔ یہ سسٹم اب بدل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے امریکہ کے خلاف نہیں لڑائی لڑی ہے۔ امریکہ نے ہمارے اوپر حملہ کیا اور ہم نے اپنی تہذیب وثقافت، مذہب اور ملک کی حفاظت کے لئے یہ لڑائی لڑی ہے۔ حقانی نے کہا، ’امریکی ہمارے اور ہمارے ملک کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان نے اپنے دشمنوں کے خلاف بڑی جیت حاصل کی ہے۔

      خلیل الرحمن حقانی نے کہا، کہ بے حد قابل اور تعلیم یافتہ لوگ افغانستان میں حکومت بنائیں گے۔ اس میں سبھی گروپوں کو شامل کیا جائے گا۔ مانا جا رہا ہے کہ ملک میں بڑھ رہی مخالفت کو روکنے کے لئے طالبان کی قلبی تبدیلی (ہردے پریورتن) ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں جھنڈے اور اب پنجشیر میں طالبان کے خلاف باغیوں کی آوازیں تیز ہوگئی ہیں۔ (آئی اے این ایس اِن پُٹ کے ساتھ)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: