உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے ٹرک سے نکال کر پھاڑا پاکستانی پرچم، پھر دی دھمکی، ویڈیو وائرل

    طالبان نے ٹرک سے نکال کر پھاڑا پاکستانی پرچم، پھر دی دھمکی، ویڈیو وائرل

    طالبان نے ٹرک سے نکال کر پھاڑا پاکستانی پرچم، پھر دی دھمکی، ویڈیو وائرل

    حال ہی میں طالبان جنگجووں نے افغانستان (Afghanistan) میں راحت اشیا لے کر آنے والے ٹرک پر لگا پاکستانی پرچم (Pakistan Flag) پھاڑ دیا۔ طالبانی جنگجووں نے پاکستان کی کھل کر مخالفت بھی کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: ایک طرف پاکستان (Pakistan) پوری دنیا میں طالبان (Taliban) کی طرفداری کرتے ہوئے نہیں تھک رہا ہے۔ وہیں طالبان حکومت اور جنگجووں نے اپنے کام اور بیان سے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان پر کسی کا دباو نہیں ہے۔ حال ہی میں طالبان جنگجووں نے افغانستان (Afghanistan) میں راحتی اشیا لے کر آنے والے ٹرک پر لگا پاکستانی پرچم (Pakistan Flag) پھاڑ دیا۔ طالبانی جنگجووں نے پاکستان کی کھل کر مخالفت بھی کی۔

      کیا تھا پورا معاملہ

      اس پورے حادثہ کا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ طالبانی جنگجو نے جیسے ہی ٹرک پر پاکستانی پرچم لگا دیکھا تو وہ غصے میں آگ بگولہ ہوگئے۔ انہوں نے اعتراض جتاای کہ یہ پرچم کیوں لگا ہوا ہے۔ پھر انہوں نے جھنڈا فوراً نکال دیا اور کیمرے کے سامنے ہی اسے پھاڑ بھی دیا۔ اس کے بعد غصے میں ایک شخص ٹرک والے کو دھمکی دیتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جس ٹرک سے پاکستانی پرچم نکالا گیا، اس پر پاکستان - افغانستان کو آپریشن فورم لکھا ہوا تھا۔


      طالبان حکومت میں نہیں ہے پاکستان کا دخل

      ٹھیک ایک دن پہلے ہی طالبان نے پاکستان کو دو ٹوک جواب دیا ہے۔ طالبان نے کہا کہ پاکستان یا کسی اور ملک کو یہ مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ افغانستان (Afghanistan) میں کیسی سرکار بنے گی۔ دراصل، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے پڑوسی ملک افغانستان میں جامع حکومت (Inclusive Government) بنانے کی نصیحت دی تھی، لیکن یہ طالبان (Taliban) کے گلے نہیں اترا۔ طالبانی ترجمان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے ڈیلی ٹائمس سے کہا ہے کہ پاکستان یا کسی اور ملک کو اس معاملے میں بولنے کا حق نہیں ہے۔

      پاکستان کو لے کر طالبان میں گروپ بندی

      طالبان حکومت میں نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر اور ملا محمد یوسف کی قیادت والا گروپ پاکستان کی بڑھتی مداخلت سے ناراض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں اسلامی حکومت کے اعلان کے بعد بھی یہ دونوں لیڈر کابل سے دوری بنائے ہوئے ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر کو طالبان حکومت میں نائب وزیر اعظم اور ملا محمد یوسف کو وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔ ملا محمد یوسف طالبان کے سابق سربراہ ملا محمد عمر کا بیٹا اور ملا عبدالغنی برادر کا بھانجہ ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: