உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں 20 سالوں کی جنگ کے آخری 24 گھنٹے ... ڈر و خوف میں گزری تھی رات، جانئے کیا ہوا آخری دن

    افغانستان میں 20 سالوں کی جنگ کے آخری 24 گھنٹے ... ڈر و خوف میں گزری تھی رات، جانئے کیا ہوا آخری دن ۔ فائل فوٹو ۔

    افغانستان میں 20 سالوں کی جنگ کے آخری 24 گھنٹے ... ڈر و خوف میں گزری تھی رات، جانئے کیا ہوا آخری دن ۔ فائل فوٹو ۔

    کابل میں اے پی کے نامہ نگاروں نے جو دیکھا اور لوگوں نے انٹرویو میں جو بتایا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جنگ مظالم اور طویل عرصہ تک اذیت کے ساتھ ختم ہوئی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : افغانستان میں 20 سال کی لڑائی کے آخری لمحات کو طالبان جنگجووں نے رات آسمان پر نظر رکھتے ہوئے گزاری ، جس سے اشارہ مل سکے کہ امریکہ کابل سے پوری طرح سے واپسی کرچکا ہے ۔ امریکی جنرلوں نے بھی دور سے اسی مقصد سے ویڈیو اسکرین پر نظر جمائے رکھی ۔

      امریکہ کے آخری طیارہ کے اڑان بھرنے کے ساتھ یہ جنگ ختم ہوگئی ۔ اب جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں ، انہیں مستقبل کو لے کر ڈر ہے اور یہ طالبان کی تاریخ کی وجہ سے ہے ۔ دنیا بھر میں ہزاروں امریکی افسران اور سماجی کارکنان افغان پناہ گزینوں کی مدد میں لگے ہوئے ہیں ، لیکن اب بھی امن نہیں ہے ۔

      کابل میں اے پی کے نامہ نگاروں نے جو دیکھا اور لوگوں نے انٹرویو میں جو بتایا اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جنگ مظالم اور طویل عرصہ تک اذیت کے ساتھ ختم ہوئی ۔ دو دہائیوں سے دونوں طرف سے لوگوں کا ایک ہی مقصد تھا ۔ امریکہ اور طالبان دونوں ہی چاہتے تھے کہ امریکہ افغانستان سے باہر ہوجائے ۔ دونوں ہی فریقوں کیلئے آخر کے 24 گھنٹے کافی اہم تھے ۔

      کئی راتوں کی نیند حرام کرنے کے بعد امریکی انخلا کے آخری اڑان کی گڑگڑاہٹ کے بعد حماد شیرزاد نے اپنے ہوائی اڈہ کی چوکی میں جم کر جشن منایا ۔ شیرزاد نے اے پی کو بتایا کہ ہم خوشی کے مارے لگ بھگ ایک گھنٹے تک روتے رہے ۔ ہم بہت چیخے ، ہمارے گلے میں بھی درد ہورہا تھا ۔

      اسی وقت واشنگٹن کے باہر پینٹاگن آپریشن سینٹر میں آپ آخری سی 17 کے اڑان بھرنے کے دوران پن گرنے کی آواز سن سکتے تھے ۔ صدر جو بائیڈن کو یہ جانکاری ان کے قومی سلامتی کے مشیر سے ملی کہ کابل سے آخری ٹیم روانہ ہوگئی ہے ۔

      آخری 24 گھنٹے کے بارے میں اے پی سے بات کرنے والے کچھ لوگوں نے نام نہ چھاپنے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ کابل میں آخری کچھ دن کافی بھیانک تھے ۔ لوگوں کو ایئرپورٹ کے اندر جانے کیلئے کیا کیا کرنا پڑا ، کچھ لوگوں نے انتظار میں پانچ دنوں تک باہر گزارے تھے ۔ ہوائی اڈہ کے اندر آنے والے کئی بچے کنبہ سے الک ہوگئے ۔ ایک دن میں تقریبا 30 ۔ 30 بچوں نے اپنے کنبہ کو کھودیا ۔

      کابل میں گزشتہ دنوں میں کئی افغانوں کو طالبان نے واپس کردیا تھا ۔ دیگرلوگوں کو ان کے پاس سے گزرنے کی اجازت نہیں تھی ، یہ پاگل پن تھا جو یہ پتہ لگانے کی کوشش کررہا تھا کہ دونوں فریقوں کو کون مطئمن کرسکتا ہے اور اس میں شامل ہوسکتا ہے ۔

      امریکی افسران نے کہا کہ اتوار 29 اگست کی شام کو کچھ لوگوں کو ایک گاڑی میں دھماکہ خیز مواد لوڈ کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ پڑوسیوں اور اہل خانہ کے اراکین سے جب اس بار میں پوچھا گیا تو انہوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے دعوی کو خارج کردیا ۔ اس کے بعد ایک ہیل فائر میزائل لانچ کی گئی ۔

      آخری دن افغانستان میں موجود ایک ہزار سے کم فوجیوں کو لینے کیلئے پانچ سی 17 طیارے رات کے اندھیرے میں آئے ۔ اس کے بعد پانچوں طیاروں نے ایک ساتھ امریکہ کیلئے اڑان بھری ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بے صبری سے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور کابل ہوائی اڈہ پر طالبانی جنجگو بھی ہم پر نظر بنائے ہوئے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: