உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانی خواتین کو جنگجووں سے شادی کرنے کے لئے مجبور کر رہا ہے طالبان، جانیں کیا پوری کہانی

    افغانی خواتین کو جنگجووں سے شادی کرنے کے لئے مجبور کر رہا ہے طالبان، جانیں کیا پوری کہانی

    افغانی خواتین کو جنگجووں سے شادی کرنے کے لئے مجبور کر رہا ہے طالبان، جانیں کیا پوری کہانی

    طالبان (Taliban) نے افغانستان کے کئی اہم علاقوں اور صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، طالبان زبردستی افغانی خواتین کی شادی (Marriage) اپنے جنگجووں سے کروا رہے ہیں۔ طالبان جیسے جیسے افغانستان کے علاقوں کو قبضے میں لیتا جا رہا ہے، ویسے ویسے وہاں کے لوگوں پر ظلم وتشدد کرنے کا الزام لگ رہا ہے

    • Share this:
      کابل: طالبان (Taliban) نے افغانستان کے کئی اہم علاقوں اور صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، طالبان زبردستی افغانی خواتین کی شادی (Marriage) اپنے جنگجووں سے کروا رہے ہیں۔ طالبان جیسے جیسے افغانستان کے علاقوں کو قبضے میں لیتا جا رہا ہے، ویسے ویسے وہاں کے لوگوں پر ظلم وتشدد کرنے کا الزام لگ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو افغان فوجی ان کی پکڑ میں آرہے ہیں، انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بغیر کسی وجہ سے عام آدمی کا قتل بھی سرعام کیا جا رہا ہے۔

      وال اسٹریٹ جرنل کی جمعرات کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق، جن علاقوں پر طالبان قبضہ کر رہے ہیں، ان علاقوں کی خواتین اور لڑکیوں کو جنگجووں سے شادی کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان بغیر کسی خوف کے اپنی جیت کا جشن منا رہے ہیں۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ طالبان سرینڈر کرنے والے افغانی فوجیوں کو بھی مار رہے ہیں۔ کابل میں موجود امریکی سفارت خانے نے اس کی سخت تنقید کی ہے۔

      طالبان نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افغانستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر قندھار پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ اب تک طالبان نے افغانستان کے 12 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ جبکہ افغانستان کی راجدھانی کابل سے اب تقریباً سو کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ آئندہ ایک ہفتے میں کابل بھی طالبان کے قبضے میں آجائے گا۔

      ہندوستان کی طالبان کو سخت وارننگ

      کابل: افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) تیزی سے اپنا دائرہ بڑھا رہا ہے۔ اس نے ہندوستان (India) کو سخت وارننگ دی ہے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے واضح کر دیا ہے کہ افغانستان میں ہندوستان کو فوجی موجودگی سے بچنا چاہئے۔ دراصل، امریکہ، برطانیہ، روس سمیت کئی ممالک افغانستان کی خراب ہوتی صورتحال سے متعلق تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے اپنے شہریوں کو بھی جلد از جلد افغانستان سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ طالبان ترجمان نے کہا کہ اگر ہندوستان، افغانستان میں فوجی طور پر آتا ہے اور یہاں اس کی موجودگی ہوتی ہے تو یہ ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے افغانستان میں دوسرے ممالک کی فوجی موجودگی کی حالت دیکھی، تو یہ ان کے لئے ایک کھلی کتاب ہے۔ طالبان، افغانستان کے بڑے حصے پر قبضہ کر چکا ہے۔ حال ہی میں اس نے تقریباً 34 صوبائی دارالحکومتوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اورملک میں راجدھانی کابل کو لے کر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔

      نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات چیت میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا، ’فوجی کردار سے آپ کا مطلب کیا ہے؟ اگر وہ فوجی طور پر افغانستان آتے ہیں، تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ ان کے لئے اچھا ہوگا۔ انہوں نے افغانستان میں دوسرے ممالک کی فوجی موجودگی کا انجام دیکھا ہے۔ ایسے میں یہ ان کے لئے کھلی کتاب ہے اور افغان کے لوگوں یا قومی منصوبوں کو لے کر ان کی مدد، مجھے لگتا ہے کہ تعریف کرنے والی ہے۔ سہیل شاہین نے مزید کہا، ’ڈیم، نیشنل پروجیکٹس، انفرا اسٹرکچر اور کچھ بھی جو افغانستان کی ترقی، اس کی دوبارہ تعمیر، معاشی خوشحالی اور افغانستان کے لوگوں کے لئے کئے گئے کاموں کی تعریف کرتے ہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: