உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan: افغانستان میں نظر آگیا چاند، طالبان حکومت کا اعلان، آج ہے عیدالفطر

    افغانستان میں نظر آیا شوال کا چاند، آج ہے عید۔ طالبان حکومت کا اعلان۔

    افغانستان میں نظر آیا شوال کا چاند، آج ہے عید۔ طالبان حکومت کا اعلان۔

    Afghanistan: طالبان کے ترجمان و نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بھی آج یکم مئی کو عید الفطر کا اعلان کیا اور تمام افغان شہریوں کو عید کی مبارکباد دی۔

    • Share this:
      کابل:Eid in Afghanistan:سعودی عرب نے یکم مئی 2022 کو 30ویں روزے کا اعلان کیا ہے تو وہیں افغانستان میں آج یکم مئی کو عیدالفطر منائی جائے گی۔ دراصل، افغانستان کی سپریم کورٹ کے سربراہ مولوی عبدالحکیم کے مطابق ملک میں چاند کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں اور اتوار یکم مئی 2022 کو ملک میں عید الفطر منائی جائے گی۔

      افغان وزارت داخلہ کے مطابق فراہ، غزنی، قندھار اور غور سے چاند نظر آنے کی شہادتیں ملی ہیں۔طالبان کے ترجمان و نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بھی آج یکم مئی کو عید الفطر کا اعلان کیا اور تمام افغان شہریوں کو عید کی مبارکباد دی۔بتادیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا ہے جس کے بعد وہاں عید الفطر 2 مئی پیر کو منائی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سعودی عرب میں نہیں نظرآیا چاند، عرب ممالک میں پیر اورہندوستان میں منگل کومنائی جائےگی عید

      اس سے پہلے سعودی عرب میں شوال کے چاند کے حوالے سے شاہی اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا تھا۔ اس اعلامیے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بروز اتوار یکم مئی رمضان المبارک کا 30 واں روزہ ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پھردھماکے سے دہلاAfghanistan،نمازجمعہ کے بعدکابل کی ایک مسجدمیں دھماکے سے 60 سے زائد ہلاک

      شاہی اعلامیے کے مطابق مملکت سعودی عرب میں عیدالفطر 2 مئی پیر کے روز منائی جائی گی۔ سعودی سپریم کورٹ نے اپیل کی تھی کہ شہری اپنے طور پر بھی 29 رمضان کی شام شوال کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں، شوال کا چاند کھلی آنکھ یا دوربین سےدیکھنے کی کوشش کی جائے۔ ایسے میں چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد یکم مئی 2022 کو 30واں روزہ رہنے کا اعلان کیا گیا۔

      دوسری جانب، متحدہ عرب امارات میں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا اور وہاں بھی عید الفطر 2 مئی بروز پیر ہوگی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: