உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں طالبان حکومت کا بڑا فیصلہ، اسلام کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر میڈیا پر پابندی

    افغانستان میں طالبان حکومت کا بڑا فیصلہ، اسلام کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر میڈیا پر پابندی

    افغانستان میں طالبان حکومت کا بڑا فیصلہ، اسلام کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر میڈیا پر پابندی

    طالبان (Taliban) کے نئے ضابطے کے مطابق، میڈیا کو اسلام (Islam) کے خلاف کسی بھی طرح کی رپورٹنگ نہیں کرنے دی جائے گی۔ طالبان کے وزارت اطلاعات و ثقافت (Ministry of Information and Culture) نے میڈیا کی پابندی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان قیادت کی تنقید نہیں کی جاسکتی ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان (Taliban) ایک کے بعد ایک سخت ضوابط نافذ کر رہا ہے۔ اس سے بندشیں زیادہ ہوگئی ہیں۔ طالبان کے نئے ضابطے کے مطابق، میڈیا کو اسلام کے خلاف کسی بھی طرح کی رپورٹنگ نہیں کرنے دی جائے گی۔ طالبان کے وزارت اطلاعات و ثقافت نے میڈیا کی پابندی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان قیادت کی تنقید نہیں کی جاسکتی ہے۔

      ہیومن رائٹ واچ گروپ میں ایشیا خطے کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پیٹریشیا گسومین نے بتایا کہ طالبان کے نئے فرمان کے بعد اب کسی بھی مسئلے پر میڈیا کو متوازن رپورٹنگ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ جب تک طالبان کے افسران کی طرف سے کسی بھی مسئلے پر ردعمل نہیں دیا جاتا، تب تک اس مسئلے پر کسی بھی طرح کی کوئی خبر نشر نہیں کی جائے گی۔ وہیں دوسری طرف اب خاتون صحافیوں کے کام کرنے پر پوری طرح پابندی عائد کردی گئی ہے۔ میڈیا میں آرہی خبروں کے مطابق، جب سے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا ہے، تب سے اب تک 7000 صحافیوں کو قید کیا جاچکا ہے۔

      طالبان کے اقتدار میں سب سے بڑا الزام ہے کہ افغان خواتین سے متعلق سخت ضوابط بنائے گئے ہیں۔ ان ضوابط کے لحاظ سے خواتین عوامی طور پر مستی مذاق نہیں کرسکتی ہیں۔ ان کے اکیلے باہر جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہیں خود کو پوری طرح سے حاجب میں رکھنا لازمی کیا گیا ہے۔ خواتین کے کاسمیٹک استعمال کرنے پر پوری طرح سے پابندی ہے۔ ساتھ ہی خواتین مرد سے ہاتھ نہیں ملا سکتی ہیں اور زیادہ زور سے ہنسنے پر بھی پابندی ہے۔ خواتین ٹیکسی میں نہیں جاسکتی ہیں، اس کے علاوہ موٹر سائیکل، سائیکل چلانا، کھیل کود میں حصہ لینا بھی خواتین کے لئے پابندی ہے۔

      خواتین ججوں کو مل رہے ہیں دھمکی آمیز پیغام

      افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد طالبان پر شہریوں کے ساتھ بربریت کرنے کا الزام لگا ہے۔ دوسری طرف جیل سے خونخوار مجرمین کو رہا کرنے کی بات بھی سامنے آرہی ہے۔ طالبان نے کابل کی جیل سے کئی مجرمین کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے میں اب یہ خونخوار قیدی ان خواتین ججوں کی تلاش کر رہے ہیں، جنہوں نے انہیں سزا دی تھی۔ افغانستان میں تقریباً 200 سے زیادہ ایسی خواتین جج ہیں، جن کو ان قیدیوں سے دھمکی آمیز پیغام مل رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: