உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کے قول و فعل میں نظر آیا بڑا فرق! پہلے معافی دی اور پھر بچوں کے سامنے ہی فوجی باپ کا کر دیا بے رحمی سے قتل

    دراصل طالبان کے قول و فعل میں فرق واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ طالبان حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ طالبان سب کو معاف کردیں گے لیکن صورت حال ایک الگ کہانی سنارہی ہے۔ معافی دئے جانے کے چند دن بعد ان کا قتل کیا جا رہا ہے۔

    دراصل طالبان کے قول و فعل میں فرق واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ طالبان حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ طالبان سب کو معاف کردیں گے لیکن صورت حال ایک الگ کہانی سنارہی ہے۔ معافی دئے جانے کے چند دن بعد ان کا قتل کیا جا رہا ہے۔

    دراصل طالبان کے قول و فعل میں فرق واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ طالبان حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ طالبان سب کو معاف کردیں گے لیکن صورت حال ایک الگ کہانی سنارہی ہے۔ معافی دئے جانے کے چند دن بعد ان کا قتل کیا جا رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل۔ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان (Taliban) کی بربریت کا دور جاری ہے۔ طالبان جنگجوؤں نے معافی دینے کے بعد بھی ایک فوجی جو کہ افغان فوج کا حصہ تھا ، کو گھر سے نکال کر قتل کر دیا۔ باغی گروپ نے یہ واقعہ جوان کے اہل خانہ کے سامنے انجام دیا۔ حال ہی میں ایسی خبریں اور تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں جنگجوؤں نے صحافیوں پر مظالم ڈھائے تھے۔

      غربان محمد اندرابی افغان فوج کا سپاہی تھا۔ طالبان نے اسے معافی دے دی تھی۔ اس کے باوجود بدھ کے روز جنوبی افغانستان کے صوبے بگلان کے خانجان علاقے میں رہنے والے اندرابی کو اس کے گھر سے نکال کر طالبان نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ افغانستان کے مختلف علاقوں سے طالبان کی طرف سے دی گئی عام معافی کے باوجود افغان فوج اور سکیورٹی فورسز کے مارے جانے کی خبریں برابر آرہی ہیں۔

      جمعہ کے روز  افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کے بڑے بھائی روح اللہ صالح کا بھی بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ دراصل طالبان کے قول و فعل میں فرق واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ طالبان حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ طالبان سب کو معاف کردیں گے لیکن صورت حال ایک الگ کہانی سنارہی ہے۔ معافی دئے جانے کے چند دن بعد ان کا قتل کیا جا رہا ہے۔



      سکیورٹی فورسز کے علاوہ صحافی Journalists بھی طالبان کے نشانے پر ہیں۔ تین روز قبل کابل میں خواتین کے احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی طالبان نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد کی تصاویر میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ مجموعی طور پر طالبان نے پورے افغانستان میں بربریت کے ذریعے دہشت پھیلا رکھی ہے۔ افغانستان کے مختلف علاقوں سے مسلسل تشدد کی تصاویر سامنے آرہی ہیں۔
      پاکستان نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے کتنی مدد کی ہے اس سے دنیا واقف ہے۔ طالبان کو سچ دکھانا گنوارا نہیں تھا۔ اس لیے جب کہ کابل میں پاکستان کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے گولیاں چلائی گئیں، وہیں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے افغان صحافیوں کو  سزا بھی دی گئی ہے۔

      کابل میں صحافیوں پر طالبان کا قہر ٹوٹا ہے۔ طالبان جنگجوؤں نے نہ صرف کئی صحافیوں کو گرفتار کیا بلکہ انہیں حراست میں لیکر تشدد اور شدید مار پیٹ بھی کی۔


      افغانستان کو کور کرنے والے نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر نے یہ تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے جو وائرل ہو رہی ہے۔ شریف حسن نے ٹویٹ کیا کہ کل کابل میں دو صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بری طرح مارا پیٹا گیا۔


      اسی دوران لاس اینجلس کے صحافی مارکس یام نے ٹویٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ دو افغان صحافی ، طالبان کے مظالم کا شکار ہونے والے ، اٹیلا ٹروز کے رپورٹر ہیں جن کے نام  نعمت نقدی اور تقی دریابی ہیں۔ خواتین کے مظاہروں کی کوریج کرتے ہوئے انہیں طالبان حکومت نے حراست میں لیا اور بے رحمی سے مارا پیٹا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں ایک ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے - صحافت کوئی جرم نہیں ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: