உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کو اسلامی ریاست بنائے گا طالبان، ملا عبدالغنی بردار ہوسکتے ہیں نئے صدر

    افغانستان کو اسلامی ریاست بنائے گا طالبان، ملا عبدالغنی بردار ہوسکتے ہیں نئے صدر

    افغانستان کو اسلامی ریاست بنائے گا طالبان، ملا عبدالغنی بردار ہوسکتے ہیں نئے صدر

    ملا عبدالغنی بردار ان چار لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 1994 میں افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تھا۔ سال 2012 کے آخر تک ملا عبدالغنی بردار کے بارے میں بہت کم بحث ہوتی تھی۔ حالانکہ ان کا نام طالبان قیدیوں کی فہرست میں سب سے اوپر تھا، جنہیں امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے افغانی حکومت رہا کرنا چاہتی تھی۔

    • Share this:
      کابل: اتوار 15 اگست 2021 کو طالبان نے پورے افغانستان (Afghanistan) پر قبضہ کرلیا ہے۔ افغان فوج طالبان (Taliban) کے ساتھ معاہدہ کرنے کو راضی ہو گئی ہے۔ صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر قزاقستان بھاگ گئے ہیں۔ نائب صدر امراللہ صالح نے بھی ملک چھوڑ دیا ہے۔ ایسے میں افغانستان میں ایک بار پھر سے طالبان کا اقتدار طے مانا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے صدر کے نام کو لے کر بھی صورتحال واضح ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ انگریزی نیوز چینل سی این این - نیوز 18 کی خبر کے مطابق، طالبان کے ملا عبدالغنی بردار (Mullah Abdul Ghani Baradar) کو افغانستان کا نیا صدر اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔

      ملا عبدالغنی بردار ان چار لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 1994 میں افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تھا۔ سال 2012 کے آخر تک ملا عبدالغنی بردار کے بارے میں بہت کم بحث ہوتی تھی۔ حالانکہ ان کا نام طالبان قیدیوں کی فہرست میں سب سے اوپر تھا، جنہیں امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے افغانی حکومت رہا کرنا چاہتی تھی۔

      حالانکہ طالبان کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان حکومت نے سال 2018 میں انہیں رہا کردیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ اسے پاکستان میں رکھا جائے گا یا پھر کسی تیسرے ملک میں بھیجا جائے گا۔ عبدالغنی بردار کی اہمیت کو اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ گرفتاری کے وقت اسے طالبان کے لیڈر ملا محمد عمر کا سب سے قریبی اور بھروسے مند کمانڈروں میں سے ایک مانا جاتا تھا۔



      طالبان کی تنظیم کا سب سے بڑے لیڈر امیر المومنین ہیں، جو سیاسی، مذہبی اور فوجی معاملات کے لئے ذمہ دار ہیں۔ فی الحال اس عہدے پر مولوی ہبت اللہ اخند زادہ فائز ہیں۔ یہ پہلے طالبان کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ ان کے تین نائب ہیں۔ سیاسی معاون ملا عبدالغنی بردار، امیرالمومنین مولوی ہبت اللہ کے سیاسی معاون ہیں۔ وہ طالبان کے نائب بانی اور دوحہ سیاسی دفتر کے سربراہ بھی ہیں۔ معاون کے عہدے پر فی الحال طالبان کے بانی ملا عمر کا بیٹا ملا محمد یعقوب اس عہدے پر فائز ہے۔

      طالبان نے سرکاری ملازمین کو کیا متنبہ

      طالبان نے افغانستان میں سرکاری ملازمین کو طالبان کے اقتدار کے تحت 20 سال پہلے کی طرح لوٹنے کا انتباہ دیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک نئی شروعات کریں، رشوت، گھوٹالہ، تکبر، بدعنوانی، سستی اور بے حسی سے محتاط رہیں۔ ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ پہلے جیسے ہوجائیں، جیسے وہ 20 سال پہلے طالبان کے دور اقتدار میں تھے۔ افغانستان پر قبضے کے ساتھ ہی طالبان نے جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان نے کہا- صدر اشرف غنی اور سفارت کاروں کے افغانستان چھوڑنے کے ساتھ ہی جنگ ختم ہوگیا ہے۔
      امریکہ نے افغانستان سے اپنے ملک کے شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لئے کابل ایئر پورٹ پر ٹریفک کنٹرول کو ٹیک اوور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے ایک دفاعی افسر نے بتایا کہ جو بائیڈن نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کل 5,000 جوانوں کی تعیناتی کو منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں وہ 1,000 فوجی بھی شامل ہیں، جو پہلے سے افغانستان میں موجود ہیں۔ امریکی 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے 1,000 فوجیوں کی ایک بٹالین کو کویت میں ان کی تعیناتی کے بجائے کابل بھیج دیا گیا تھا۔ دفاعی افسر نے بتایا کہ پنٹاگن  نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ 3,000 اضافی فوجیوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ جو بائیڈن اور امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے قومی سیکورٹی اہلکاروں کو ویڈیو کانفرنسنگ کی تھی، جس کے بعد صدر نے اور سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: