உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کا نمائندہ نامزد کیا، اقوام متحدہ کے فورم سے بولنے کی اجازت مانگی

    طالبان نے سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کا نمائندہ نامزد کیا۔ (Photo by Dimitar DILKOFF / AFP)

    طالبان نے سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کا نمائندہ نامزد کیا۔ (Photo by Dimitar DILKOFF / AFP)

    طالبان نے سہیل شاہین کو افغانستان کے اقوام متحدہ کے سفیر کے طور پر نامزد کیا۔ اس نے افغانستان کے نمائندہ غلام محمد اسکازئی کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: بین الاقوامی سطح پر منظوری حاصل کرنے کے لئے افغانستان (Afghanistan) کی طالبان (Taliban) حکومت نے ایک اور کوشش کی ہے۔ افغان حکومت نے قطر میں امن مذاکرات کے دوران طالبان کے ترجمان رہے سہیل شاہین (Suhail Saheen) کو اقوام متحدہ (United Nations) میں سفیر نامزد کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) میں بولنے کی اجازت بھی مانگی ہے۔ طالبان کا فیصلہ ان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ میں عالمی رہنماوں کو خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، قطر کے امیر شیخ تمیم بن احمد الثانی نے عالمی لیڈروں سے گزارش کی ہے کہ طالبان کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔

      قطر کے امیر شیخ تمیم بن احمد الثانی نے زور دے کر کہا، ’طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ بائیکاٹ سے صرف پولرائزیشن ہوگا جبکہ بات چیت سے مثبت نتائج آسکتے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بیان ان سربراہان مملکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیا، جو طالبان سے بات چیت کرنے میں گھبرا رہے ہیں اور افغانستان میں طالبان حکومت کو منظوری دینے سے کترا رہے ہیں۔

      طالبان کے وزیر خارجہ نے اینٹونیو گوٹیریس کو لکھا خط

      نیوز ایجنسی رائٹرس کے مطابق، طالبان کے وزیر خارجہ عامر خان متقی نے پیر کو اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس کو خط بھی لکھا۔ عامر خان متقی نے پیر کو ختم ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سالانہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران بولنے کا مطالبہ کیا۔ گٹیریس کے ترجمان فرحان حق نے عامر خان متقی کا خط ملنے کی تصدیق کی ہے۔

      واضح رہے کہ افغانستان کی طرف سے غلام ایم اسحاق زئی کو اسی سال جولائی میں اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندے کے طور پر منظوری ملی تھی۔ حالانکہ اشرف غنی کی حکومت کو معزول کرکے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا اور اب طالبان کی عبوری حکومت بھی قائم ہوگئی ہے۔ طالبان کے وزیر خارجہ نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایم اسحاق زئی کا کام اب ختم ہوچکا ہے۔ اب وہ افغانستان کی قیادت نہیں کرتے ہیں تو ایسے میں انہیں ہٹاکر، طالبان کے نمائندے کو جگہ دی جائے۔

      وہیں گٹیریس کے ترجمان فرحان حق نے کہا کہ جب تک کریڈینشیل کمیٹی اس پر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی، تب تک غلام ایم اسحاق زئی ہی افغانستان کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔ فرحان حق نے کہا کہ افغانستان کی اقوام متحدہ سیٹ کے لئے گزارش کو 9 رکنی کریڈیشنیل کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ اس کمیٹی میں امریکہ، چین اور روس شامل رکن ہیں۔ اس موضوع پر پیر سے پہلے کمیٹی کی میٹنگ ہونے کا امکان نہیں ہے، ایسے میں طالبان کی نمائندگی کا اقوام متحدہ فورم پر بولنا مشکل ہی ہے۔ طالبان کے سفیر کی اقوام متحدہ کے ذریعہ منظوری بین الاقوامی منظوری کی راہ میں ایک اہم قدم ہوگا۔ منظوری ملنے سے نقدی کے بحران سے پریشان افغانستان کو کافی مدد ملے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: