உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محض اس عمر کی ساری لڑکیوں کا شادی شدہ ہونا ضروری، افغانستان میں ایک اور طالبانی فرمان

    یہ بات واضح ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے بارے میں جو باتیں انہوں نے کہی تھیں وہ محض باتیں تھیں۔ طالبان کے قول و فعل میں بڑا فرق ہے۔

    یہ بات واضح ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے بارے میں جو باتیں انہوں نے کہی تھیں وہ محض باتیں تھیں۔ طالبان کے قول و فعل میں بڑا فرق ہے۔

    یہ بات واضح ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے بارے میں جو باتیں انہوں نے کہی تھیں وہ محض باتیں تھیں۔ طالبان کے قول و فعل میں بڑا فرق ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی. افغان لڑکیوں اور خواتین کی عزت نفس کو نقصان پہنچاتے ہوئے طالبان نے ایک اور حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق 20 سال یا اس سے زیادہ عمر کی تمام لڑکیوں کو شادی کرنی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو ان کا شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور حکم کے مطابق 18 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو شادی کے بعد ہی یونیورسٹی میں پڑھنے کی اجازت ہوگی۔ انہیں اپنے شوہروں کے ساتھ یونیورسٹی جانے کی اجازت ہوگی۔


      طالبان یہیں نہیں رکے ، انہوں نے 35 سال سے کم عمر کی بیواؤں کی شادی کا حکم نامہ بھی جاری کیا ہے جن کے شوہر پچھلی حکومت میں موت ہو گئی تھی ان کا طالبانی جنگجوؤں کے ساتھ نکاح کا فرمان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔  یہ بات واضح ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں اور عورتوں پر مظالم کا دور بدستور جاری ہے۔



      اقتدار سنبھالنے کے بعد  طالبان نے خواتین کو کام پر نہ جانے کا حکم دیا ہے اور اب طالبان شریعت کے نفاذ کی آڑ میں خواتین Afghanistan Women کو غلامی کی بیڑیوں میں جکڑنے کی سازش کے تحت  ایک کے بعد ایک کے بعد حکم جاری کر رہے ہیں۔


      سینئر کاؤنٹر ٹیرر ایکسپرٹ ڈاکٹر ریتوراج ماٹے کے مطابق لڑکیوں اور عورتوں کی عزت نفس ، آزادی اور حقوق ختم جئے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان ایک سازش کے  طور پر خواتین کے ایک حصے کو بھی تیار کر رہے ہیں جو کہ طالبان قانون کو اسلامی قانون میں خواتین کے تحفظ کے لیے ایک اقدام قرار دے رہا ہے۔




      یہ بات واضح ہے کہ طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے بارے میں جو باتیں انہوں نے کہی تھیں وہ محض باتیں تھیں۔ طالبان کے قول و فعل میں بڑا فرق ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: