உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین کے لئے Talibanکا ایک اور فرمان، بنا محرم فلائٹ میں نہیں کرپائیں گی سفر

    خواتین کو لے کر طالبان نے جاری کیا نیا فرمان (فائل فوٹو)

    خواتین کو لے کر طالبان نے جاری کیا نیا فرمان (فائل فوٹو)

    رپورٹ کے مطابق اس وقت طالبان کے اسلامی علما ایئرپورٹ چیف اور پولیس چیف کے عہدوں پر تعینات ہیں۔ دونوں نے ہفتے کے روز ایئر لائن کے حکام سے ملاقات کی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی خاتون اکیلے 72 کلومیٹر سے زیادہ سفر نہیں کر سکتی۔

    • Share this:
      کابل:طالبان کی آمد کے بعد جس چیز کی توقع کی جا رہی تھی وہ بالآخر افغانستان میں دوبارہ ہو رہی ہے۔ طالبان نے بلاشبہ دوسری اننگز میں تبدیلی اور نئی سوچ کی بات کی تھی لیکن وہاں خواتین پر جس طرح کی پابندیاں دوبارہ لگائی جا رہی ہیں اس میں ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ حال ہی میں طالبان نے ایک اور تغلقی فرمان جاری کیا ہے۔ اس کے تحت اب خواتین کے اکیلے فلائٹس میں سفر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

      اتوار کو کچھ خواتین کو روکا گیا
      رپورٹ کے مطابق افغان ایئرلائن کے حکام نے کہا ہے کہ اتوار کو کابل ایئرپورٹ پر کچھ خواتین کو پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ ان کے ساتھ کوئی محرم یعنی مرد سرپرست نہیں تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ آپ مرد سرپرست کے بغیر سفر نہیں کر سکتے۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ طالبان کا حکم ہے۔ حکام نے ایسی خواتین کو بھی اکیلے جانے کی اجازت نہیں دی جن کی دوہری شہریت تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:جنگ کی بھینٹ چڑھے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک، مصر میں بڑھی بریڈ کی قیمتیں

      یہ بھی پڑھیں:
      EXCLUSIVE: پاکستان میں سیاسی طوفان، وزیراعظم عمران خان کہاں کھڑے ہیں؟ کونسامعاہدہ ہوا؟

      پچھلے دنوں ہوئی میٹنگ میں لیا گیا فیصلہ
      رپورٹ کے مطابق اس وقت طالبان کے اسلامی علما ایئرپورٹ چیف اور پولیس چیف کے عہدوں پر تعینات ہیں۔ دونوں نے ہفتے کے روز ایئر لائن کے حکام سے ملاقات کی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی خاتون اکیلے 72 کلومیٹر سے زیادہ سفر نہیں کر سکتی۔ اس سے اوپر کے سفر کے لیے اسے ایک مرد سرپرست کو ساتھ لے کر جانا پڑے گا۔ ایئرلائن حکام سے کہا گیا کہ وہ اس اصول پر سختی سے عمل کریں۔ اس حکم کے بعد ایئر لائن حکام نے اس اصول پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسی کئی خواتین کو سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: