உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں 31 اگست تک نہیں بنے گی طالبان کی حکومت، امریکہ سے ہوا تھا معاہدہ: رپورٹ

    Taliban in Afghanistan: امریکی فوجیوں کی واپسی کے درمیان جس رفتار سے طالبان نے افغانستان پر جیت حاصل کی، اس نے پوری دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا۔

    Taliban in Afghanistan: امریکی فوجیوں کی واپسی کے درمیان جس رفتار سے طالبان نے افغانستان پر جیت حاصل کی، اس نے پوری دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا۔

    Taliban in Afghanistan: امریکی فوجیوں کی واپسی کے درمیان جس رفتار سے طالبان نے افغانستان پر جیت حاصل کی، اس نے پوری دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا۔

    • Share this:

      نئی دہلی: افغانستان میں آئندہ حکومت کے بارے میں کوئی فیصلہ یا اعلان کرنے سے متعلق طالبان کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے، جب تک کہ 31 اگست کی تاریخ نہ گزر جائے۔ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات سے واقف ایک افغان افسر نے یہ اطلاع دی۔ دراصل 31 اگست ہی وہ تاریخ ہے، جس کے لئے امریکہ نے کہا تھا کہ اس دن تک وہ افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔


      افغان افسر نے نام نہ بتانےکی شرط پر ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ طالبان کے اہم مذاکرات کار انس حقانی نے اپنے سابق سرکاری مذاکرہ کار سے کہا ہے کہ باغیانہ تحریک نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت افغانستان سے امریکی فوجیوں کی آخری واپسی کی تاریخ تک وہ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ حالانکہ میڈیا کو جانکاری دینے کے لئے غیر منظور شدہ افسر نے اس بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا کہ کچھ نہیں کرنے کا مطلب کیا صرف سیاسی علاقے سے تھا۔


      انس حقانی کا بیان اس بات کو لے کر تشویش پیدا کرتا ہے کہ 31 اگست کے بعد مذہبی تحریک کا کیا منصوبہ ہوسکتا ہے اور کیا وہ آئندہ حکومت میں غیر طالبان افسران کو شامل کرنے کا اپنا وعدہ نبھائیں گے؟ اب تک طالبان نے افغان قومی تحفظ اور سیکورٹی اہلکاروں کو بدلنے کے اپنے منصوبہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ کابل میں فی الحال 5200 امریکی فوجی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’14 اگست کو انخلا مہم شروع ہونے کے بعد سے ہم نے تقریباً 7,000 لوگوں کو نکالا ہے۔


      کابل میں فی الحال 5200 امریکی فوجی


      کابل ہوائی اڈے کو محفوظ اور پرواز آپریٹنگ کے لئے کھلا بتاتے ہوئے امریکی فوج کے میجر جنرل ولیم ہینک نے جمعرات کو کہا تھا کہ کابل میں کل 5,200 سے زیادہ امریکی فوجی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’14 اگست کو انخلا مہم شروع ہونے کے بعد سے، ہم نےتقریباً 7,000 لوگوں کو نکالا ہے۔ طالبان کے حملے کی شروعات کے بعد سے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فوجیوں نے اپنی پہلے سے چل رہی واپسی کے باوجود، ملک سے باہر نکالنے میں مدد کے لئے اضافہ کیا ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: